کراچی: تیز رفتار ٹرالر کی کار، موٹر سائیکل، رکشے کو ٹکر، باپ، بیٹا جاں بحق، 2 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
کراچی کے نیٹی جیٹی پل پر خوفناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جب تیز رفتار ٹریلر نے کار، موٹر سائیکل اور رکشے کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں باپ، بیٹا جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکس تھانے کے علاقے نیٹی جیٹی پل سے آئی سی آئی پل کی جانب جاتے ہوئے تیز رفتار ٹریلررجسٹریشن نمبرایس ایم اے 129 نے عقب سے کار، موٹرسائیکل اور رکشے کو ٹکرماردی، حادثے کے نتیجے میں سیاہ رنگ کی کار رجسٹریشن نمبربی ایم 4598 پل پر لگی آہنی باڑ توڑتے ہوئے پل سے نیچے لوہے کے پائپوں پر جا گری۔
حادثے میں گاڑی میں سوار باپ، بیٹا موقع پرجاں بحق اورایک بیٹا زخمی ہوگیا جنہیں پہلے نجی اسپتال اوربعدازاں سول اسپتال منتقل کردیا گیا۔
حادثے میں رکشہ ڈرائیوربھی شدید زخمی ہوگیا، حادثے کے بعد نیٹی جیٹی پل پربدترین ٹریفک جام ہو گیا اورگاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اوربدترین ٹریفک جام ہو گیا۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں 62 سالہ محمد اشرف ولد عبداللہ ان کا بیٹا 40 سالہ نوید محمد اشرف شامل ہیں، حادثے میں متوفی محمد اشرف کا دوسرا بیٹا عثمان محمد اشرف اورایک رکشہ ڈرائیورشمس الحہی زخمی ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملنے پر پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی، ایس ایچ اوڈاکس نفیس الرحمن نے بتایا خوفناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے متوفی محمد اشرف صنعت کارہیں اورڈیفنس واقعے اپنی رہائش گاہ سے سائٹ ایریا میں واقع اپنی فیکٹری اشرف انٹرپرائزجا رہے تھے کہ نیٹی جیٹی پل سے آئی سی آئی کی جانب جاتے ہوئے ٹریلر نے گاڑی، موٹر سائیکل اوررکشے کو ٹکر ماردی۔
ٹکر کے نتیجے میں گاڑی پل سے نیچے جا گری گاڑی میں سوار صنعت کار باپ بیٹا جاں بحق اور ایک بیٹے سمیت رکشہ ڈرائیور زخمی ہو گیا۔
انھوں نے بتایا کہ حادثے کے بعد ٹریلر کا ڈرائیورموقع پرسے فرارہوگیا، پولیس نے ٹریلر کو قبضے میں لیکراس کی تلاش شروع کردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیٹی جیٹی پل کو ٹکر
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔