WE News:
2026-07-24@14:34:58 GMT

سعودی عرب کا پائیدار آبی تحفظ کا ماڈل عالمی سطح پر قابل تحسین

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

سعودی عرب کا پائیدار آبی تحفظ کا ماڈل عالمی سطح پر قابل تحسین

سعودی عرب نے اپنی صحرائی جغرافیائی حدود کے باوجود پانی کے تحفظ کے ایک مؤثر اور مربوط ماڈل کی تشکیل میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے مطابق اس کامیابی کے پیچھے قیادت کی مسلسل حمایت اور پانی کی صفائی و ترسیل کے بڑے منصوبوں میں کی گئی بھاری سرمایہ کاری کا اہم کردار ہے۔

یہ بات وزارت کے پانی کے نائب وزیر، ڈاکٹر عبد العزیز الشیبانی نے انڈونیشیا میں ایک بین الاقوامی مکالمے کے دوران کہی، جس کا عنوان ’بالی سے ریاض اور اس کے بعد‘ تھا۔

 یہ مکالمہ مئی میں بالی میں ہونے والے دسویں عالمی پانی فورم کی سفارشات پر عمل درآمد کے سلسلے میں منعقد کیا گیا، جس میں 160 ممالک کے سربراہان، وزراء اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔

ڈاکٹر الشیبانی نے سعودی عرب کے جدید آبی نظام کو ’زمین کے نیچے بہتے ہوئے دریا‘ سے تشبیہ دی اور اسے وژن 2030 کے تحت پانی کے شعبے میں قیادت کے پختہ عزم کا مظہر قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی کے تحفظ کو قومی ترقیاتی منصوبوں میں سرفہرست رکھا گیا ہے تاکہ پائیدار اور اعلیٰ معیار کے آبی وسائل مہیا کیے جا سکیں، جو معیشت کی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر پانی سے جڑے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، کیونکہ پانی اب استحکام اور ترقی کے لیے ایک بنیادی عنصر بن چکا ہے۔

سعودی عرب عالمی آبی فورمز اور تجربات کے تبادلے کو اس مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم قدم سمجھتا ہے۔

تقریر کے اختتام پر ڈاکٹر الشیبانی نے انڈونیشیا کی جانب سے دسویں عالمی پانی فورم کی کامیاب میزبانی کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ سعودی عرب فورم کی قیادت سنبھالنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر آبی تعاون کو مزید فروغ دے گا اور اس شعبے میں مزید ترقی کے لیے سابقہ کامیابیوں پر استوار کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈنیشیا بالی پانی ڈاکٹر الشیبانی ریاض سعودی عرب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انڈنیشیا بالی پانی ڈاکٹر الشیبانی ریاض پانی کے کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم