ملک بھر میں پلاٹس کی آن لائن تصدیق کا جدید نظام تیار
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان بھر میں پراپرٹی اور ہاؤسنگ سیکٹر میں ہونے والے فراڈ کی روک تھام اور شفاف خرید و فروخت کو یقینی بنانے کے لیے ایک جدید ترین آن لائن نظام تیار کر لیا ہے جس کا چیئرمین نیب جلد افتتاح کریں گے۔
اس نئے سسٹم سے فراڈ اور جعلسازی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور پورے پاکستان کے پلاٹس کا ریکارڈ ڈیجیٹل پورٹل پر ہوگا، پلاٹ یا سوسائٹی کی قانونی حیثیت، این او سی، نقشہ، مالکان کی تفصیلات، تصدیق شدہ رپورٹ خرید و فروخت کیلئے استعمال ہو گی۔
کاہنہ :لڑائی کے دوران چھریوں کے وار، 2 بھائیوں سمیت 3 افراد زخمی
یہ جدید تریں الٹرا ماڈرن لیک پروف آن لائن سسٹم نیب اسلام آباد/ راولپنڈی کے ڈائریکٹرجنرل نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے، جس کے ذریعے ملک بھر کے تمام پلاٹس کا ریکارڈ ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اس سسٹم کے ذریعے ہر شہری کو یہ سہولت حاصل ہوگی کہ وہ کسی بھی پلاٹ یا ہاؤسنگ سوسائٹی کی قانونی حیثیت، این او سی، نقشہ، اور اصل مالکان سے متعلق تفصیلات صرف چند کلکس میں حاصل کر سکے گا۔
لاہور: داتا دربار پولیس کی کارروائی، 2 رکنی چور گینگ گرفتار
نیب حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہوگا کہ پورے پاکستان کے پلاٹس کا مکمل ریکارڈ اس ڈیجیٹل پورٹل پر موجود ہوگا۔ عوام صرف پلاٹ نمبر کے ذریعے کسی بھی پلاٹ کی تصدیق کر سکیں گے اور سسٹم سے جاری ہونے والی تصدیق شدہ رپورٹ کو خرید و فروخت کے لیے قانونی دستاویز کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔
اس سسٹم کا مقصد ناصرف شہریوں کو جعلسازی سے بچانا ہے بلکہ ہاؤسنگ اسکیمز میں اوور سیلنگ، جعلی فائلز، اور غیر قانونی زمینوں کی خرید و فروخت جیسے سنگین جرائم کا خاتمہ بھی ہے۔
31 جولائی سے شرح سود 10فیصد ہونے کا امکان
نیب کے مطابق یہ پلیٹ فارم قانون نافذ کرنے والے اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز، اور عام شہریوں کے لیے ایک مؤثر ٹول ثابت ہوگا، جس سے ہاؤسنگ سیکٹر میں شفافیت اور اعتماد کو فروغ ملے گا۔
ترجمان نیب نے کہا کہ یہ نظام جلد عوام کے لیے دستیاب ہوگا اور اس کی بدولت پلاٹ خریدنے یا بیچنے سے پہلے مکمل تصدیق ممکن ہو سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔