شطرنج کا مقابلہ، وزیراعلیٰ سندھ کو سرکاری اسکول کی طالبہ کے ہاتھوں شکست
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
چیس چیمپئن مہک مقبول نے 15 چالوں میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو ہرا دیا۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے انڈر 18 قومی چیس چیمپئن مہک مقبول کو مبارکباد دی۔ اسلام ٹائمز۔ سرکاری اسکول کی طالبہ و شطرنج کی انڈر 18 چیمپئن نے وزیراعلیٰ سندھ کو 15 چالوں میں شکست دے دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سرکاری اسکول ایس ایم بی فاطمہ جناح گورنمنٹ اسکول کی طالبہ مہک مقبول کے درمیان وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں شطرنج کا مقابلہ ہوا۔ وزیراعلی ہاؤس میں شطرنج کا میچ دیکھنے کیلئے وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ، وزیر کھیل محمد بخش مہر، سیکریٹری تعلیم ذاہد عباسی، سیکریٹری اسپورٹس علیم لاشاری و دیگر شخصیات موجود تھے۔ چیس چیمپئن مہک مقبول نے 15 چالوں میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو ہرا دیا۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے انڈر 18 قومی چیس چیمپئن مہک مقبول کو مبارکباد دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مہک مقبول نے سرکاری اسکول کی بہتر تعلیم کے ساتھ شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیس چیمپئن مہک مقبول سرکاری اسکول مراد علی شاہ اسکول کی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔