جدہ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 مارچ ۔2025 )سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے جدہ میں الگ الگ ملاقات کی ہے یوکرینی صدر اور امریکی وزیر خارجہ، روس اور یوکرین کے تنازعے کا ممکنہ حل تلاش کرنے کے لیے ملاقات کی غرض سے سعودی عرب پہنچے ہیں.

(جاری ہے)

ولی عہد نے وولادی میر زیلنسکی سے ملاقات میں یوکرین کے بحران کو حل کرنے اور امن کے حصول کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا زیلنسکی نے مشرق وسطیٰ اور دنیا میں مملکت کے کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے اس کی کوششوں پر شکریہ اور تعریف کی ملاقات میں سعودی عرب اور یوکرین کے اعلیٰ حکام نے ملاقات میں شرکت کی یوکرین اور سعودی اور امریکی نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے قبل زیلنسکی سعودی عرب پہنچے.

شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر شہزادہ سعود بن مشال بن عبدالعزیز اور دیگر حکام نے زیلنسکی کا استقبال کیا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی پیر کو سعودی عرب پہنچے تھے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کی شام امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی. سعودی نشریاتی ادارے کے مطابق انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور مختلف شعبوں میں ان کو بڑھانے اور ترقی دینے کے مواقع کا جائزہ لیا دونوں راہنماﺅں نے تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی پیشرفتوں، سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اس ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے شرکت کی.

سعودی عرب کی جانب سے شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز، وزیر دفاع اور واشنگٹن میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بھی اس موقع پر موجود تھیں اعلیٰ امریکی سفارت کار منگل کو یوکرین کے حکام کے ساتھ متوقع مذاکرات سے قبل جدہ میں موجود ہیں وہ ایک وفد کی قیادت کر رہے ہیں جس میں والٹز بھی شامل ہیں یوکرین اور امریکہ کے حکام جدہ میں ملاقات کریں گے تاکہ روس اور یوکرین کے تنازعے سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جا سکے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور امریکی ملاقات میں یوکرین کے ولی عہد

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر اتفاق
  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اہم ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
  • چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل