Express News:
2026-06-02@23:29:54 GMT

اسرائیل کو مزید ظلم سے باز رکھا جائے

اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT

اسرائیل کی فورسز نے غزہ کو دوبارہ دو حصوں شمالی اور جنوبی غزہ میں تقسیم کردیا ہے اور فلسطینوں کی نقل و حمل محدود کردی گئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حالیہ دنوں میں شروع کیے جانے والے تازہ حملوں میں فلسطینی شہدا کی تعداد ساڑھے چار سو تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں نئے فضائی حملے صرف ابتدا ہیں، جنگ بندی کے لیے بات چیت صرف شعلوں کے درمیان ہی ہوگی۔

  غزہ میں اسرائیل کی جارحیت جاری ہے۔ اسرائیل کا ظلم اب جواز اور عدم جوازکی بحث سے آگے نکل چلا۔ ظلم کا جواز تو خیر ہر صورت میں بے معنی بات ہے۔ آج معاملہ حماس کا نہیں، ان مظلوموں کا ہے جنھیں ان کے گھروں میں مارا جا رہا ہے۔ ان بچوں کا ہے جو جنگ کے ہجے بھی نہیں جانتے۔ ان اسپتالوں کا ہے جن پر بم برسائے جا رہے ہیں۔

ان بستیوں کا ہے جنھیں تاراج کیا جا رہا ہے۔ ان بے گناہوں کا ہے جنھیں گھر سے بے گھر کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے جواز اور عدم جواز کی بحث بے معنی ہے۔

 بلاشبہ جب اسرائیل کی بے جا حمایت اور مدد جاری ہو، تو اسے من مانی کی عادت پڑ جانا فطری بات ہے۔ اسرائیل نے جنگ بندی خود توڑی، مرضی سے جنگ بندی قبول کی تھی، اسے خود ہی توڑ دیا ہے۔ اسرائیل نے امریکا کی مدد سے ایسی جنگ لڑی ہے جس میں امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور تقریباً سارا یورپ اس کی پشت پر رہا ہے، اس لیے اسرائیلی قائدین کا دہن بگڑنے پر حیرت نہیں ہے۔ اسرائیل کے وجود میں لانے سے لے کر اب تک اس کے سرپرستوں نے جس ناجائزکاری کو ایک اصول کے طور پر اپنا رکھا ہے۔

اس ناجائز کاری کا سب سے زیادہ نقصان فلسطینیوں اور عرب دنیا کو ہوا ہے۔ فلسطینی مغربی کنارے کے ہوں یا یروشلم اور غزہ کے، اسرائیل نے جب بھی کند چھری سے ذبح کرنا چاہا، اس کے سرپرستوں نے اسرائیل کی سہولت کاری کا خوب اہتمام کیا۔ تا آنکہ غزہ میں اسرائیل کی سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کی نوبت آ گئی۔

اسرائیل کی ہر جائز و ناجائز خواہش و کوشش اور سازش و کاوش کے ساتھ یہ سرپرست کھڑے ہی نہیں پوری طرح متحرک و سرگرم نظر آئے۔ ساڑھے پندرہ ماہ تک اسرائیلی فوج نے غزہ میں خوفناک تباہی مچائی اور تقریباً پورا غزہ ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ 50 ہزار تک فلسطینیوں کو قتل کر دیا۔ فلسطینی بچوں اور عورتوں کا قتل عام سب سے زیادہ کیا، لیکن جنگ بندی کے مرحلے تک پہنچنے کے بعد، جنگ بندی معاہدے کو توڑ کر دوبارہ وحشیانہ بمباری کی کارروائیوں اور ناجائز ارادوں میں اسرائیل و امریکا قدم بہ قدم اور ساتھ ساتھ ہیں۔

جو چہرہ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اپنا اور امریکا کا مشرق وسطیٰ کے لیے دکھانا چاہا ہے وہ ایک آتش بردار کا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جنھوں نے محض چند ہفتے قبل کہا تھا کہ وہ دنیا سے جنگوں کا خاتمہ کردیں گے۔ لیکن خود ہی اسرائیل کو آگ کا ایندھن فراہم کردیا ہے۔ غزہ کی پٹی تو پہلے ہی امریکی مدد سے ملبے اور راکھ کا ڈھیر بن چکی ہے۔

اس کے علاوہ لبنان، شام کو بھی خاکستر کرنے کی مہم آگے بڑھ چکی۔ یمن کی بربادی ہو چکنے کا بھی پورا خطہ گواہ ہے۔ عراق کو تباہی کے ہتھیاروں کے نام پر تباہ کیا جا چکا ہے۔ ایران کے لیے مناسب وقت کا انتظار ہے۔ افغانستان اور پاکستان کو باہم دست و گریبان کرنے میں مزید کسی کاوش کی ضرورت نہیں۔ تو باقی چند مملکتیں موجود ہیں جن کے ہاں اندوختے اور ایندھن کی خوب فراوانی ہے۔ ایسے میں امریکی جہنم کے دروازے مشرق وسطیٰ میں کھول دینے کا ایسا کھلا اعلان خوفزدگان کی خوفزدگی میں مزید اضافہ کیوں نہیں کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کو ’مشرق وسطیٰ کا ریویرا‘ (واٹر فرنٹ پارک) بنانے کا خیال غیر متوقع نہیں تھا ۔

ایک امریکی صدر کی جانب سے پوری آبادی کو نسلی طور پر ختم کرنے یا یوں کہیے کہ جبری طور پر نکالنے کی حمایت کرنا شرمناک ہے۔ پھر اس کو کسی بیچ ریزورٹ سے جوڑنا، کیسی دیدہ دلیری ہے۔ یہ سچ ہے کہ لبنان کے پرانے خوش حال دنوں کی طرح غزہ میں ترقی کے امکانات تھے لیکن جنگ، شدت پسندی، اسرائیل اور حماس کی بدنیتی پر مبنی حکمرانی نے اس کو فلسطینی عوام کے فائدے کے لیے اسے ممکن نہیں ہونے دیا۔ فلسطینی جن کے گھروں کو بم باری کا نشانہ بنایا گیا، انھیں خوف ہے کہ ان پر ایک اور قیامت ٹوٹنے والی ہے۔

تازہ ترین مثال غزہ سے فلسطینیوں کو مصر اور اردن میں منتقل کرنے کے ٹرمپ منصوبے اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے جنگی جرائم کی بنیاد پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والی بین الاقوامی فوجداری عدالت پر امریکا کی لگائی گئی انتقامی پابندیوں کی بھی ہے۔ ادھر حماس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج شمالی غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کو اپنے گھروں میں واپس جانے سے روک کر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان کھلی جنگ ابھی ختم نہیں ہوپائی کہ اسرائیلی جارحیت کا شکار لبنان کے بعد اب یمن بھی ہوگیا ہے۔ صیہونیت تو فلسطین، لبنان، اردن،عراق، ایران، شام، مصر، ترکی اور مشرقی سعودی عرب کو ملا کر گریٹر اسرائیل کی دعویدار ہے ۔ 1947 میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو الگ الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دی اور بیت المقدس کوایک بین الاقوامی شہر قراردیا گیا۔ لیکن یہودی دانشوروں نے کہا تھا کہ ’’فلسطین کی تقسیم غیرقانونی ہے۔ یروشلم ہمارا دارالحکومت تھا اور ہمیشہ رہے گا ۔‘‘

آج کے اسرائیل میں ایک زیادہ حقیقت پسندانہ سوچ یہ ہے کہ اس میں اسرائیل کی سرحدوں سے باہر کے وہ علاقے مغربی کنارے کے علاقے، غزہ اور گولان کی پہاڑیاں بھی شامل ہیں جن پر اس نے طویل عرصے سے قبضہ کر رکھا ہے۔

یقینا اسرائیلی فطرت اور تاریخ پر نظر رکھنے والے اسے گریٹر اسرائیل کی منزل کی طرف بغیر لڑے بڑی پیش قدمی اور فتح مندی کا مظہر ہی سمجھیں گے۔ جیسا کہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا شام کے اندر سفر گولان کی پہاڑیوں سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جس ’’نارملائزیشن‘‘ کا لبادہ اسرائیل اب نئے سرے سے اوڑھ رہا ہے اس کی کوکھ سے خطے میں حد سے زیادہ ’’ ابنارملیسی‘‘ جنم لے گی۔ جو اس معاملے میں بے خبری یا تجاہل کا شکار ہیں، ان کے لیے بھی یہ کافی ہے کہ غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے نفاذ کے ساتھ ہی اسرائیل نے امریکی صدر ٹرمپ کی قیادت میں گنگا الٹی بہانا شروع کر دی ہے کہ غزہ کے فلسطینی غزہ کو چھوڑ جائیں۔ کیا یہ اطلاق 1948 میں یورپ و امریکا سے لا کرفلسطینی سرزمین پر بسائے جانے والے یہودیوں پر نہیں ہوتا۔

اس بڑھی ہوئی یہودی آبادی نے خطے میں سکون و چین اور امن و استحکام کا کوئی لمحہ نہیں آنے دیا۔ اس لیے یورپ و امریکا یہودی آبادکاری کے اس تحفے کو فلسطین اور مشرق وسطیٰ سے واپس لے جائیں یا کم از کم شرمندہ ہوں، لیکن کہنا یہ شروع کر دیا گیا ہے کہ فلسطینی غزہ بھی چھوڑ کر مصر، اردن یا سعودی عرب چلے جائیں۔

یہ اب کوئی مذہبی مقدمہ نہیں رہا۔ یہ فلسطینیوں کی نسل کشی کا مقدمہ ہے۔ یہ مسلمانوں کے لیے زیادہ باعثِ اذیت ہے تو اس کا وجہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کی اکثریت مسلمان ہے۔ اس فکری یکسوئی کے بعد ایک مشکل سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے کہ اس ظلم کو کیسے روکا جائے؟ صورتحال اقوام عالم کے سامنے ہے۔ امریکا اعلانیہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔

مغربی یورپ بھی اسرائیل کا حامی ہے جب کہ روس ، بھارت اور چین بھی مفادات کے تابع ہیں۔ گویا ایک طرف تنہا فلسطینی ہیں اور دوسری طرف امریکا ہے ۔ دوسری طرف کوئی ریاست فلسطینیوں کے لیے ایک حد سے آگے نکل کر کوئی اقدام پر آمادہ نہیں۔

وہ بس اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کر رہے ہیں، یا فلسطینیوں کو مرہم پٹی کا سامان بھیج رہے ہیں۔سیدھی بات ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے۔ایسے حالات میں فلسطینیوں کے پاس بظاہر کوئی راستہ نہیں ہے ۔ غزہ ہاتھ سے نکلتا نظر آتاہے ، آج اگر عرب ممالک اور مسلم دنیا ، دیگر اقوام کے ساتھ مل کر غزہ فلسطنیوں کو دلوا دیں تو یہی بڑی کامیابی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فلسطینیوں کو میں اسرائیل اسرائیل نے اسرائیل کی کا ہے جن کے ساتھ کہ غزہ کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان