پاک سعودی دفاعی معاہدہ، اسرائیل کے لیے سخت پیغام ہے، محمد عاطف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائس آف امریکا سے وابستہ سینئر صحافی محمد عاطف نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جب سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا ہے تو خطّے اور دنیا کے ممالک کو پتا چل گیا ہے کہ پاکستان اپنے سب سے بڑے عرب اتحادی کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔ یہ اسرائیل کے لیے واضح اشارہ ہے کہ اُسے اب خطّے کے اندر اپنی کارروائیاں سوچ سمجھ کر کرنا ہوں گی۔
اسرائیل کے لیے یہ بات پریشان کن ہے کہ پاکستان کی افواج بالکل اُس کے بارڈر کے ساتھ آ کر بیٹھ جائیں گی۔ غزہ امن معاہدے میں پاکستان کی اہمیت اس وجہ سے سامنے آئی کہ پاکستان مسلم دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کی اہمیت اس وجہ سے بھی نہیں بنتی کہ وہ معاشی طور پر کمزور ملک ہے یا مشرقِ وسطٰی سے باہر واقع ہے۔ بلکہ فلسطین میں قیامِ امن کے لیے جو بین الاقوامی فورس (آئی ایس ایف) بنانے کی تجویز دی گئی ہے اُس میں پاکستان کا کردار اس لیے اہم ہو سکتا ہے کہ یہاں معیاری اور تربیت یافتہ فوج موجود ہے۔ اس مرحلے پر پاکستان کا کردار سامنے آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب: تاریخ کے سائے، مستقبل کی روشنی
غزہ امن معاہدے کو متشکّل ہونا ہی پڑے گامحمد عاطف نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا میں صدر ٹرمپ کے ساتھ 8 اسلامی ممالک کی میٹنگ ہوئی تھی اور اس کے بعد صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کا اعلان کیا۔ حماس اس معاہدے کو قبول کرے گا یا نہیں، ظاہر ہے قطر اسے قبول کرنے کا مشورہ دے گا۔
دوسری طرف صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کی اور کہا کہ اس طرح بین الاقوامی اتھارٹی بنے گی جس کا وہ سربراہ ہوں گے۔ اگر ساری شرائط طے ہو جائیں تو کسی بھی فریق کے پاس معاہدہ قبول نہ کرنے کا جواز باقی نہیں رہے گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ نہیں بننے دیں گے۔ جو قوّتیں اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گی اُنھیں بھی دیکھنا پڑے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم اپنے داخلی سیاسی مفادات کے لیے متنازع بیانات دیتے ہیںغزہ امن معاہدے کے خلاف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیانات کے حوالے سے محمد عاطف نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر یہ بیانات دیتے ہیں۔ جب وہ امریکا آتے ہیں تو صدر ٹرمپ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہیں، مگر واپس جا کر سیاسی دباؤ کی وجہ سے متنازع بیانات دے دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دورہِ پاکستان کے دوران کن معاہدوں پر دستخط کریں گے؟
اُن کی حکومت میں قدامت پسند دائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں جو ’گریٹر اسرائیل‘ کی بات کرتی ہیں، اس لیے وہ داخلی سیاسی تقاضوں کے تحت ایسے بیانات سے باز نہیں آتے۔ یہ چیز صدر ٹرمپ کی کریڈیبلٹی کو بھی متاثر کرتی ہے۔
کیا مجوزہ بین الاقوامی نظام ناکام ہو سکتا ہے؟غزہ امن معاہدے کی گارنٹی کوئی یقینی طور پر نہیں دے سکتا کیونکہ معاہدے میں بھی لکھا گیا ہے کہ جب تک حماس اور دیگر مسلح تنظیمیں ہتھیار پھینک نہیں دیں گی، معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ دوسری طرف اسرائیلی افواج پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ طیش میں آ کر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث نہ ہوں اور معاہدے میں طے شدہ حدود کے اندر رہیں۔
ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج کو بس ایک موقع چاہیے ہوتا ہے، جس کے بعد وہ کسی معمولی کارروائی کا جواب بہت بڑی کارروائی کے ساتھ دے دیتے ہیں۔ اس معاہدے میں یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ ایسی کارروائیوں پر کس طرح قابو پایا جائے گا۔
کیا غزہ میں تعینات بین الاقوامی فورسز اس حوالے سے ذمہ داری اٹھائیں گی؟ اور یہ بین الاقوامی فورس کن ممالک پر مشتمل ہوگی؟ ان اور دیگر کئی امور کو بتدریج واضح کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: مسلم سربراہان کے اصرار پر غزہ مسئلے کا حل نکلا، پورے معاملے میں سعودی عرب اور پاکستان کا کردار کلیدی تھا، حافظ طاہر اشرفی
فلسطینی اتھارٹی کو کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورتمحمد عاطف نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی پر ماضی میں الزامات رہے ہیں کہ وہ بین الاقوامی فنڈز کو صحیح انداز میں استعمال نہیں کرتی اور گزشتہ 10 سال سے انتخابات بھی نہیں کرائے گئے۔ اس معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔
اے پیک اور امریکی سیاست میں یہودی اثر و رسوخامریکی سیاست میں اسرائیلی اثر و رسوخ کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد عاطف نے کہا کہ اس کا بڑا سبب ’اے پیک‘ تنظیم کا اثر ہے، جو امریکی صدارتی اور دیگر انتخابات میں فنڈنگ کرتی ہے۔ اے پیک امریکا میں ایک مضبوط لابی ہے۔
نئی منتخب ہونے والی کئی شخصیات اے پیک کی مالی معاونت لیتی ہیں اور بعد از انتخاب انہیں اسرائیل کے ٹور پر لے جایا جاتا ہے۔ اسی لیے پالیسی سطح پر اسرائیل کے خلاف کم آوازیں اٹھتی ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی کابینہ کا اجلاس: فلسطین کے حق میں سفارتکاری اور پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کی توثیق
امریکی عوام میں تقسیمفلسطینیوں پر مظالم کے حوالے سے امریکی عوام کے رویّے پر محمد عاطف نے کہا کہ امریکا کی پالیسی عمومی طور پر اسرائیل کی حمایت کرتی ہے۔ طویل عرصے تک امریکیوں نے اسرائیل کو مظلوم قوم کے طور پر دیکھا۔ تاہم اب امریکن عوام میں واضح تقسیم دکھائی دینے لگی ہے۔
خاص طور پر 30 سال سے کم عمر ووٹر سمجھتے ہیں کہ امریکا کو اسرائیل کی غیر مشروط حمایت نہیں کرنی چاہیے، جبکہ 50، 60، 70 سال کے افراد عموماً اسرائیل کے حق میں ہیں کیونکہ وہ اسے خطے کا دفاعی حامی سمجھتے ہیں۔ گزشتہ 2 سال کی جنگ نے امریکی عوام میں حمایت کے حوالے سے نمایاں تقسیم پیدا کر دی ہے۔
کیا امریکی گورنمنٹ شٹ ڈاؤن کے باوجود پالیسی متاثر ہوگی؟امریکا میں گورنمنٹ شٹ ڈاؤن کے حوالے سے محمد عاطف نے بتایا کہ یہ عمل اس وجہ سے ہوتا ہے کہ بجٹ پاس نہیں ہوتا۔ جب بجٹ پاس نہیں ہوتا تو عارضی یا قلیل المدتی اخراجاتی بل پاس کرکے ضروری خدمات کو جاری رکھا جاتا ہے، اور بعض اوقات وفاقی ملازمین کو وقتی طور پر گھر بھی بھیجا جاتا ہے۔
تاہم اس شٹ ڈاؤن کے دوران دفاع، سفارتکاری اور دیگر بنیادی ادارے عام طور پر کام جاری رکھتے ہیں، اس لیے مجموعی طور پر ملک کو شدید خطرات لاحق نہیں ہوتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا پاک سعودی دفاعی معاہدہ پاکستان سعودی عرب سینئر صحافی محمد عاطف وائس آف امریکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاک سعودی دفاعی معاہدہ پاکستان سینئر صحافی محمد عاطف وائس آف امریکا محمد عاطف نے کہا کہ غزہ امن معاہدے بین الاقوامی کے حوالے سے معاہدے میں مزید پڑھیں اسرائیل کے معاہدے کو اس معاہدے اور دیگر دیتے ہیں کے ساتھ کے لیے اے پیک
پڑھیں:
اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
عالمی میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی نے پاکستان کے معروف گلوکار عاطف اسلم کی عالمی مقبولیت اور 2 دہائیوں پر محیط کامیاب فنی سفر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے مداحوں کے لیے 31 جولائی کو ریلیز ہونے والا نیا البم ’صبح آئے نا‘ تک پیشگی رسائی کی خصوصی سہولت بھی متعارف کرا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 18 سال بعد عاطف اسلم کا نیا میوزک البم ’صبح آئے نا‘ ریلیز کرنے کا اعلان
اسپاٹیفائی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق عاطف اسلم کے گیت اب تک تقریباً 8 ارب مرتبہ سنے جا چکے ہیں جبکہ اس وقت ان کے 3 کروڑ سے زائد ماہانہ سامعین موجود ہیں۔ ان کی موسیقی دنیا کے 184 ممالک میں سنی جا رہی ہے جو ان کی غیرمعمولی عالمی مقبولیت کا ثبوت ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 2 دہائیوں سے عاطف اسلم کی آواز محبت، جدائی، خوشی، یادوں، عقیدت اور گھر کی چاہت جیسے بے شمار جذبات سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے گیت شادیوں، طویل سفر، خاموش راتوں اور زندگی کے یادگار لمحات کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔
اسپاٹیفائی کے مطابق عاطف اسلم جنوبی ایشیا کے ان چند فنکاروں میں شامل ہیں جن کی مقبولیت وقت گزرنے کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھی ہے۔ اگرچہ ان کی موسیقی کی جڑیں پاکستان میں ہیں تاہم ان کی آواز کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے۔
پاپ، فلمی موسیقی اور روحانی کلام سمیت مختلف انداز میں پیش کیے گئے ان کے گیت آج بھی مداحوں میں یکساں مقبول ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ عاطف اسلم کے مقبول البمز ’دوری‘ اور ’میری کہانی‘ ریلیز کے کئی برس بعد بھی مداحوں کی پسندیدہ موسیقی میں شامل ہیں۔
96 فیصد اسٹریمز پاکستان سے باہراسپاٹیفائی کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران عاطف اسلم کی 96 فیصد اسٹریمز پاکستان سے باہر ہوئیں جن میں جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، شمالی امریکا، یورپ، ایشیا پیسیفک اور دیگر خطوں کے سامعین نمایاں رہے۔
مزید پڑھیے: کیفے میں نماز ادا کرتے عاطف اسلم کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اسپاٹیفائی کے مطابق دنیا بھر میں صارفین نے عاطف اسلم کے گیتوں کو 3 کروڑ 75 لاکھ سے زائد پلے لسٹس میں شامل کیا ہے، جہاں ان کے نغمے شادیوں، محبت، جدائی، رات گئے ڈرائیوز، پرانی یادوں اور جذباتی لمحات کی موسیقی کا حصہ بنتے ہیں۔
جین زی بھی عاطف اسلم کی دیوانیبیان کے مطابق عاطف اسلم کی موسیقی صرف پرانے مداحوں تک محدود نہیں بلکہ نوجوان نسل، خصوصاً جین زی میں بھی غیرمعمولی مقبول ہے۔ اسپاٹیفائی پر ان کی 85 فیصد اسٹریمز اسی نوجوان طبقے کی جانب سے آتی ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران 4 کروڑ 10 لاکھ سے زائد نئے سامعین نے یا تو پہلی مرتبہ عاطف اسلم کی موسیقی دریافت کی یا دوبارہ ان کے گیت سننا شروع کیے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کی موسیقی نئی نسل میں بھی مسلسل مقبول ہو رہی ہے۔
اسپاٹیفائی کا خراج تحسیناسپاٹیفائی پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی آرٹسٹ اینڈ لیبل پارٹنرشپس منیجر رطابہ یعقوب نے کہا کہ عاطف اسلم جیسے فنکار بہت کم ہوتے ہیں جو کسی ملک کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: نیا البم کب آئے گا؟ عاطف اسلم نے بڑا اعلان کردیا
انہوں نے کہا کہ عاطف اسلم کی موسیقی نے لوگوں کی زندگی کے ہر دور میں ان کا ساتھ دیا ہے جبکہ اسپاٹیفائی پر یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ ان کے مداحوں کا یہ جذباتی رشتہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ ان کے بقول یہ عاطف اسلم کی لازوال موسیقی اور مداحوں سے گہرے تعلق کا واضح ثبوت ہے۔
عاطف اسلم کیا کہتے ہیں؟اپنی نئی البم کے حوالے سے عاطف اسلم نے کہا کہ یہ البم میری زندگی کے اندرونی انتشار سے نکل کر اپنی حقیقی ذات سے ملنے کے سفر کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے مداح انتظار کریں، میں اسے آپ سب کے سامنے پیش کرنے کے لیے نہایت پرجوش ہوں۔
31 جولائی کو نئی البم ریلیز ہوگی
عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نا‘ 31 جولائی کو ریلیز ہوگا جبکہ مداح اسپاٹیفائی کے کاؤنٹ ڈاؤن پیج پر اسے ریلیز سے پہلے ہی پری سیو کر سکتے ہیں۔
البم میں گیت صبح آئے نا، سفر میں ہوں، عشق، لیٹس ہیو سَم فن، سن سجنا، ہوں عشق میں، چار یار اور سچے وعدے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی گلوکار اریجیت سنگھ کی عاطف اسلم اور شفقت امانت کی کھل کر تعریف
اسپاٹیفائی کے مطابق تیزی سے بدلتے موسیقی کے رجحانات کے باوجود عاطف اسلم ان چند فنکاروں میں شامل ہیں جن کا اپنے سامعین سے تعلق وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے اور جن کے گیت ہر نئی نسل اپنی یادوں کا حصہ بناتی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عاطف اسلم عاطف اسلم کا گانا صبح آئے نا عاطف اسلم کا نیا البم گلوکار عاطف اسلم