انڈونیشیا میں اسکول گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 36 ہوگئی، درجنوں طلبا تاحال ملبے تلے موجود
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
انڈونیشیا کے مشرقی علاقے جاوا میں بورڈنگ اسکول گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 36 ہوگئی ہے۔ یہ اعداد و شمار انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے جاری کیے۔
ایجنسی کے مطابق اتوار کو 7ویں روز بھی ریسکیو آپریشن جاری رہا تاکہ ملبے تلے دبے مزید 27 طلبا کی لاشیں نکالی جا سکیں۔ لاپتا زیادہ تر طلبا کی عمریں 13 سے 19 سال کے درمیان ہیں۔
پیر کو جب الخوزینی بورڈنگ اسکول منہدم ہوا تو وہاں سینکڑوں طلبا موجود تھے۔ ابتدائی طور پر 5 طلبہ جاں بحق اور تقریباً 100 زخمی ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: انڈونیشیا میں 6.
قومی ڈیزاسٹر ایجنسی کے عہدیدار بُدی اراوان نے بتایا کہ ریکوری آپریشن تقریباً 60 فیصد مکمل ہوچکا ہے اور اُمید ہے کہ جلد از جلد ختم کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری اُمید ہے کہ کل تک تمام ملبہ ہٹا دیا جائے اور اصل ہلاکتوں کی تعداد معلوم ہو سکے۔
ایجنسی کے سربراہ سہاریانتو کے مطابق شناخت کا عمل مشکل ہے کیونکہ زیادہ تر طلبا 18 سال سے کم عمر ہیں اور ان کے پاس قومی شناختی کارڈ یا فنگر پرنٹ ریکارڈ نہیں ہے۔ کئی لاشیں اتنی بری طرح مسخ ہیں کہ شناخت ناممکن ہوگئی ہے۔
⚠️Indonesia school collapse: one dead, 65 buried under rubble as rescuers race to find survivors
Indonesia school collapse: one dead, 65 buried under rubble as rescuers race to find survivors
Death toll expected to rise as instability of building in East Java town hampers rescue… pic.twitter.com/8ik4FsKykP
— News.Az (@news_az) September 30, 2025
ایجنسی کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 167 متاثرین میں سے 104 کو زندہ نکالا گیا ہے۔ ان میں سے 14 اسپتال میں زیر علاج ہیں، 89 کو فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ ایک کو دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: انڈونیشیا کے تانیمبر جزائر میں 6.8 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خدشہ مسترد
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسکول کے گرنے کا جھٹکا اتنا شدید تھا کہ پورے علاقے میں لرزش محسوس کی گئی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ناقص تعمیرات اس سانحے کی وجہ ہوسکتی ہیں۔
ریسکیو عملے نے والدین کی اجازت کے بعد بھاری مشینری کا استعمال شروع کیا۔ اس سے قبل کارکن ہاتھوں اور آلات سے کھدائی کرتے ہوئے طلبا کے نام پکارتے رہے لیکن کسی زندگی کے آثار نہیں ملے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکول انڈونیشیا عمارت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول انڈونیشیا ایجنسی کے کے مطابق
پڑھیں:
چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
چین نے اپنی خلائی سرگرمیوں میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے جمعہ کے روز لیجیان-1 وائی 15 کیریئر راکٹ کے ذریعے 5 مصنوعی سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں بھیج دیے۔
چینی حکام کے مطابق راکٹ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 33 منٹ پر شمال مغربی چین میں واقع ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے لانچ کیا گیا۔
کامیاب پرواز کے بعد راکٹ نے تمام 5 سیٹلائٹس کو ان کے مقررہ مدار میں پہنچا دیا، جس کے ساتھ مشن اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا کہ تمام سیٹلائٹس منصوبہ بندی کے مطابق اپنے مخصوص مدار میں داخل ہو گئے ہیں، جس سے لانچنگ کی کامیابی کی تصدیق ہوگئی۔
یہ مشن چین کے تجارتی خلائی پروگرام کی مسلسل پیش رفت کا مظہر ہے، حالیہ برسوں میں چین نے سیٹلائٹ لانچنگ، خلائی تحقیق اور تجارتی خلائی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ملک اپنے خلائی پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف راکٹ مشنز اور سیٹلائٹ منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے کامیاب مشنز نہ صرف چین کی لانچنگ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے ہیں بلکہ تجارتی خلائی صنعت کی ترقی اور مستقبل کے خلائی منصوبوں کے لیے بھی اہم سنگ میل تصور کیے جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین خلائی مشن سیٹلائٹ مدار