ویب ڈیسک:  حکومت نے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل فنڈز کی پہلی قسط حاصل کرنے کیلئے گرین بانڈز کے اجراء کا فیصلہ کیا ہے۔

باوثوق ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ رواں ماہ کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے 30 ارب روپے مالیت کے گرین بانڈز کے اجرا کا فیصلہ کیا گیا ہے، آئی ایم ایف کی مشاورت سے پہلی بار سٹاک ایکسچینج میں گرین بانڈز کا اجرا کیا جائے گا جس کا میچورٹی ٹائم تقریباً3 سال ہوگا، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بانڈز کا اجرا ہو سکے گا۔

گوگل میپ ڈرائیور کو موت کے منہ لے گیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

آئی ایم ایف کی جانب سے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل فنڈز پروگرام کی یہ شرط ہے کہ پاکستان دیگر ذرائع بشمول لوکل اور انٹرنیشنل سے فنانسنگ حاصل کرے گا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منصوبوں کی تکمیل کی جائے، آر ایس ایف سے پہلی قسط اس شرط کو پورا کئے جانے کے بعد ملے گی۔

ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ چائنیز مارکیٹ میں 30 کروڑ ڈالر کا پانڈا بانڈز نومبر یا دسمبر میں متوقع ہے اور رواں مالی سال 25-2024 کے دوران چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈز کا اجرا نہیں ہو سکے گا، آئی ایم ایف کیساتھ بانڈز کے اجرا کیلئے پلان میں شامل تھا کہ 1 ارب ڈالر کا یورو بانڈز جاری کیا جائے گا اور 30 کروڑ ڈالر کا پانڈا بانڈز چائنیز مارکیٹ میں فلوٹ کیا جائے گا۔

فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی، آج ملک بھر میں ریلیاں اور جلوس نکالے جائیں گے

ذرائع نے بتایا کہ ابھی چائنیز مارکیٹ میں پانڈا بانڈز کا اجرا نہیں ہو سکے گا، وزیرخزانہ محمداورنگزیب نے جولائی میں چین کے وزٹ کے دوران چائنا ایکسپورٹ اینڈ کریڈٹ انشورنس کارپوریشن سے 30 کروڑ ڈالر کا پانڈا بانڈ جاری کرنے کیلئے گارنٹی کی درخواست کی تھی، پانڈا بانڈز کے اجرا کیلئے ایڈوائزر بھی تعینات کیا جا چکا ہے۔

وزارت اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ میں رواں مالی سال کے دوران پانڈا بانڈز کا اجرا ایکسٹرنل فنانسنگ نیڈ پلان میں شامل ہے اور رواں مالی سال کے دوران پانڈا بانڈز پہلی سہ ماہی کے دوران جاری کیا جانا تھا جس کو بعد میں تبدیل کر کے دوسری سہ ماہی میں جاری کرنے پر بات چیت فائنل ہوئی تھی لیکن اب یہ پلان پر عملدرآمد نہیں ہو سکے گا۔

 پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری، 2ملزمان گرفتار

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.

30 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل فنڈز کی پہلی قسط اپ فرنٹ نہیں ہوگی اور یہ پوری رقم حاصل کرنے کیلئے 13 اہداف پر عملدرآمد کرنا ہوگا، موسمیاتی تبدیلی کیلئے شروع کیے گئے منصوبوں کی آئی ایم ایف مانیٹرنگ بھی کرے گا۔
 

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل فنڈز بانڈز کے اجرا بانڈز کا اجرا پانڈا بانڈز مارکیٹ میں ہو سکے گا کے دوران پہلی قسط نہیں ہو ڈالر کا ایم ایف

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی