پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 اپریل2025ء) وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے پاکستان کے نوجوانوں کی سماجی و معاشی خودمختاری کے لیے درجنوں پروگرامز شروع کیے ہیں۔وہ یہاں گلبہار میں منعقدہ خیبرپختونخوا یوتھ کنونشن سے خطاب کر رہے تھے، جس سے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام، مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری مرتضیٰ جاوید عباسی اور کے پی یوتھ کوآرڈینیٹر بابر سلیم نے بھی خطاب کیا۔

رانا مشہود خان نے اپنے مختصر خطاب میں وزیراعظم کے یوتھ ایمپاورمنٹ پروگرام پر روشنی ڈالی، جس میں ٹیکنیکل تعلیم، روزگار، ہنر کی ترقی، قرضہ اسکیم اور اسکالرشپ اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پروگرامز سے پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملک کی پہلی ڈیجیٹل یوتھ پالیسی کا آغاز کیا گیا ہے اور وہ یہاں خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو اس حوالے سے آگاہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔

رانا مشہود نے کہا کہ وہ پاکستان کے 25 شہروں کا دورہ کریں گے تاکہ نوجوانوں کو حکومت کی پہلی ڈیجیٹل پالیسی اور یوتھ ایمپاورمنٹ پروگرام سے آگاہ کیا جا سکےانہوں نے اس سلسلے میں جلد صوابی کا بھی دورہ کرنے کا اعلان کیا۔رانا مشہود نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ملک کی ترقی میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کی نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ملک کی مجموعی معاشی ترقی کے لیے کی گئی کامیابیوں کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف حکومت کے دوران مہنگائی اور پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی آئی ہے اور معیشت کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کو معاشی دیوالیہ پن سے بچا لیا۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) واحد جماعت ہے جو نوجوانوں کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کے یوتھ کنونشنز ضلعی اور تحصیل سطح پر بھی منعقد کیے جائیں گے حکومت نوجوانوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ووکیشنل ٹریننگ سے آراستہ کر رہی ہے تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری مرتضیٰ جاوید عباسی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ کے نوجوانوں نوجوانوں کو رانا مشہود کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع