علامہ ساجد نقوی سے کے پی کے علماء وفد کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
وفد میں سابق صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا علامہ حمید حسین امامی، صدر امامیہ کونسل علامہ سید محمد باقر منتظری، نائب صدر علامہ سید آغا بہشتی، علامہ حافظ مصطفیٰ توکلی، علامہ سید عامر حیدر شمسی جنرل سیکرٹری امامیہ کونسل، مولانا طفیل عباس ہاشمی، علامہ سید قیصر عباس الحسینی شامل تھے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
علامہ ساجد نقوی سے امامیہ علماء کونسل کوہاٹ ڈویژن کے وفد کی ملاقات
علامہ ساجد نقوی سے امامیہ علماء کونسل کوہاٹ ڈویژن کے وفد کی ملاقات
علامہ ساجد نقوی سے امامیہ علماء کونسل کوہاٹ ڈویژن کے وفد کی ملاقات
علامہ ساجد نقوی سے امامیہ علماء کونسل کوہاٹ ڈویژن کے وفد کی ملاقات
علامہ ساجد نقوی سے امامیہ علماء کونسل کوہاٹ ڈویژن کے وفد کی ملاقات
علامہ ساجد نقوی سے امامیہ علماء کونسل کوہاٹ ڈویژن کے وفد کی ملاقات
علامہ ساجد نقوی سے امامیہ علماء کونسل کوہاٹ ڈویژن کے وفد کی ملاقات
علامہ ساجد نقوی سے امامیہ علماء کونسل کوہاٹ ڈویژن کے وفد کی ملاقات
علامہ ساجد نقوی سے امامیہ علماء کونسل کوہاٹ ڈویژن کے وفد کی ملاقات
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی سے امامیہ علماء کونسل کوہاٹ ڈویژن کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد نے مولانا سید علی رضا نقوی کی وفات پر ان سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی۔ وفد نے مختلف علاقائی امور پر گفتگو کی اور رہنمائی لی۔ وفد میں سابق صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا علامہ حمید حسین امامی، صدر امامیہ کونسل علامہ سید محمد باقر منتظری، نائب صدر علامہ سید آغا بہشتی، علامہ حافظ مصطفیٰ توکلی، علامہ سید عامر حیدر شمسی جنرل سیکرٹری امامیہ کونسل، مولانا طفیل عباس ہاشمی، علامہ سید قیصر عباس الحسینی شامل تھے۔ علامہ ساجد نقوی نے مختلف امور میں وفد کی رہنمائی کی، باہمی اتحاد و اتفاق پر تاکید کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امامیہ کونسل علامہ سید
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔