لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 25 اپریل 2025ء ) حکومتی ادارے کا مہنگائی کی ہفتہ وار شرح منفی 3.52 فیصد ہو جانے کا دعوٰی، رواں ہفتے کے دوران دالیں، انڈے، آلو سمیت 11 اشیاء مہنگی ہو گئیں، 22 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا جب کہ 18 اشیا کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی کے ہفتہ وار اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، جس کے مطابق ملک میں مہنگائی میں ہفتہ وار کمی 1.

92 فی صد ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی منفی 3.52 فی صد کی سطح پر آ گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران 22 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا جب کہ 18 اشیا کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور 11 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ زندہ برائلر مرغی 11.75 فیصد، گندم کا آٹا 5.68 فیصد سستا ہوا۔

(جاری ہے)

اسی طرح لہسن 4.66 فیصد، کیلے 3.51 فیصد، پیاز 1.93 فیصد اور چاول 1.58 فیصد سستے ہوگئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے سرسوں کا تیل، ٹماٹر، بجلی اور ایل پی جی بھی سستی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔ مہنگی ہونے والی اشیا میں آلو 6.94 فیصد، انڈے 0.66 فیصد، نمک 0.51 فیصد مہنگا ہوا۔ اسی طرح گڑ، دہی، دال مسور، چنا، سگریٹ، کپڑے بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔
                                                                                                                        

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اشیا کی قیمتوں میں ہفتہ وار

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع