بھارت نے یکطرفہ سندھ طاس معاہدہ معطل کیا، مودی سن لیں کہ سندھو میں پانی بہے گا یا ان کا خون : بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت نے یک طرفہ سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا، بھارت سے کہتا ہوں سندھو ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا، چاروں صوبے 4 بھائیوں کی طرح مودی کو منہ توڑجواب دیں گے، بھارت کے فیصلہ واپس لینے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
سکھر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے کارکنان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ بات ہوچکی ہے کہ یہ حکومت پاکستان کی پالیسی ہے کہ آپ کی مرضی کے بغیر نئی کینالز نہیں بنیں گی، ہمیں دریائے سندھ پر نہریں قبول نہیں ہیں، کل وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت متنازع نہری منصوبہ روکے ورنہ ساتھ نہیں چل سکتے، بلاول بھٹو نے شہباز شریف کو خبردار کردیا
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان معاہدہ ہوا ہے، معاہدے پر دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے دستخط موجود ہیں، عوام کی مرضی کے بغیر کوئی نئی نہر نہیں بنے گی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جیالے میدان میں نہ آتے تو یہ نہ ہوتا، سندھو دریا سے کوئی نیا کینال نہیں بنایا جائے گا، تمام صوبوں کی رضا مندی سے ہی کینالز بنیں گی، وفاقی حکومت تمام صوبوں سے مشاورت کرے گی، مشترکہ مفادات کونسل میں مشاورت سے فیصلے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کے مسائل حل کرنے کے لیے جدو جہد کریں گے، 2 مئی کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوگا، اجلاس میں سندھ کا نمائندہ بھی موجود ہوگا، باہمی رضا مندی کے بغیر کوئی منصوبہ منظور نہیں ہوگا، ہم نے وعدہ کیا تھا کہ سندھو کو بچائیں گے، ہم نے وعدے کے مطابق سندھو کو بچالیا ہے، یہ سندھ کےعوام اور پاکستان کی کامیابی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملے کو بھارت کی چال قرار دینے پر آسام کے رکن اسمبلی گرفتار
بلاول بھٹو نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کا حملہ ہوا، ہم نے مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی کی مذمت کی، بھارت نے اپنی کمزوری چھپانے کے لیے پاکستان پر الزام لگادیا، اس بار بھارت نے سندھو پر حملہ کیا ہے، بھارت نے یکطرفہ سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا، بھارت سے کہتا ہوں سندھو ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم دریائے سندھ کے وارث ہیں، ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے، پاکستانی عوام غیور لوگ ہیں، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، پاکستانی دنیا کو پیغام دیں گے کہ سندھو پر ڈاکہ نا منظور ہے، پورے پاکستان کو ایک ہوکر بھارت کا مقابلہ کرنا ہوگا، چاروں صوبے 4 بھائیوں کی طرح مودی کو منہ توڑجواب دیں گے، بھارت کے فیصلہ واپس لینے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ مودی سن لے، دریائے سندھ ہمارا ہے، اس میں یا تو ہمارا پانی بہے گا یا اُن کا خون، ہم ڈٹ کر بھارت کا مقابلہ کریں گے، ہماری فوج بھارت کو منہ توڑ جواب دے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعے پر امریکی بیان پر بھارتی صحافی برکھا دت ٹی وی کیوں توڑنا چاہتی ہیں؟
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہر پاکستانی سندھو کا سفیر بن کر کہے گا سندھو پر ڈاکہ نا منظور، یہ دریا ہم سب کا ہے، دشمن کی آنکھ ہمارے دریا پر ہے، سندھ دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا ان کا کا خون بہے گا، مودی کی سندھو کے حوالے سے کوششیں ناکام کروائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بلاول بھٹو زرداری سندھ طاس معاہدہ مقبوضہ کشمیر نریندر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری سندھ طاس معاہدہ بلاول بھٹو زرداری سندھ طاس معاہدہ نے کہا کہ بھارت نے کریں گے بہے گا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :