ایرانی وزیر خارجہ کی اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
پاکستانی وزیر خارجہ سے اپنی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے اور قیام استحکام کیلیے اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلیے تیار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حالیہ شب نائب وزیراعظم پاکستان و وزیر خارجہ "محمد اسحاق ڈار" اور ایرانی وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ جس میں بھارت کے ساتھ کشیدگی اور تہران-اسلام آباد دوطرفہ روابط کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب کو بھارت کے ساتھ بننے والی صورت حال میں تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران اسلامی جمہوریہ کے مثبت و تعمیری کردار کو سراہا۔ دوسری جانب سید عباس عراقچی نے انہیں اس تشویش ناک صورت حال پر ایران کے موقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے خطے کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے دونوں فریقین سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے اسلام آباد اور نئی دہلی کے ساتھ تہران کے اچھے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے اور قیام استحکام کے لیے اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔