بھارت پہلگام واقعہ کا بے بنیاد الزام پاکستان پر لگا رہا ہے، انوارالحق کاکڑ
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
بھارت پہلگام واقعہ کا بے بنیاد الزام پاکستان پر لگا رہا ہے، انوارالحق کاکڑ WhatsAppFacebookTwitter 0 26 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )سابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہیکہ پاک بھارت حالات کشیدہ چل رہے ہیں، بھارت ایک ایجنڈے کے تحت پاکستان پر الزام تراشی کرتا رہا ہے، جو واقع پیش آیا پاکستان کبھی کسی دہشتگردی کے واقعے کو سپورٹ نہیں کرتا، اگر کہیں تخریب کاری ہوئی ہیتو بھارت خود پر اور آپ اپنے رونے پر غور کریں، پاکستانی اپنے فوج کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئیسابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ کے متعلق کیسی باتیں کر رہے ہیں، کیا بتاتے ہیں کہ ہم نے دو ہتھیار بنا لیے تو دنیا کو دکھائیں، آپ اس سب سے منہ چھپاتے پھریں گے، بھارت کی جانب سے جو الزام لگایا جا رہا ہے جلد حقیقت سامنے آ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی بھارت سے پہلے دراندازی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو بھارت کا حصہ ہی نہیں سمجھتا۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ 70 سالا تاریخ میں کبھی ثبوت نہیں ملے کہ پاکستان دہشتگردی کی ہو ، ہمیشہ سے ہی دہشتگردی بھارت نے ہی کی جس کے ثبوت موجود ہیں، ہمیشہ ہندوستان دہشتگردی کر کے کھلم کھلا کریڈٹ لیتا ہے، بلوچستان میں دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ ساتھ ایشیا میں جنگی اور ہجانی سی کیفیت چل رہی ہے، لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، بھارت کی مہم جوئی کی سی کیفیت لگ رہی ہے، ایسی بیحودگی جس کا الزام پاکستان پر لگ رہا ہے ہم مسترد کرتے ہیں۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کی پوزیشن کشمیر پر پرنسپل پوزیشن ہے، کشمیر کو پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہیے، یہ مسئلہ شروع سے کلیئر ہے، یہ ایک disputed ٹیرٹری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اور پاکستان کی پوری قوم کلئیر ہے کہ یہ ہم پر الزام ہے، بھارت کے ارادے نیک نہیں ہیں، بنگلادیش میں بھارت کو شدید ناکامی ہوئی ہے۔
سابق نگراں وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہمارے دو صوبوں میں دہشتگرد کے جو حالات تھے اس سے لگتا ہے انڈیا نے کچھ سوچا ہو ، یہ انکا خواب ہے جسکی کوئی تعبیر نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو دولخت کرنے میں کھلم کھلا کردار ادا کیا گیا، میرے صوبہ بلوچستان میں بھی شواہد موجود ہیں، انکی تخریب کاری کے شواہد موجود ہیں، انکے وزیر اعظم کہتے ہیں بلوچستان سے اور گلگت سے لوگ مجھے آوازیں دے رہے ہیں، پاکستان کی ترقی روز اول سے ان سے برداشت نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریاست دوسروں کے معاملات میں بولنے کی عادت نہیں رکھتی ، ہمسائے کے طور پر ہم خوش ہیں کہ کوئی ترقی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا کہے کہ کینیڈا اور امریکہ کا الزام غلط ہے کہ انڈیا نے مداخلت کی، دنیا کہے کہ کینیڈا اتھارٹی نے جھوٹ بولا،امریکی اتھارٹی نے جھوٹ بولا۔ کل فلور آف دی ہاس پر سب نے دیکھا سب یک زبان تھے، انوارالحق کاکر نے کہا کہ بھارتی میڈیا پراپگنڈا کرتا ہے ، پہلگام کا واقع کتنے فاصلے پر ہوا ،آپ مسلمانوں کو ہندوستانی بنانے چلے ہیں، اگر کہیں تخریب کاری ہوئی ہے تو خود پر غور کریں، آپ اپنے رونے پر غور کریں ،پوری دنیا میں یہ منفی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ،اتنی منفی کردار سے یہ ایکسپوز ہو جائیں گے ،ہندوتوا براہمن فلاسفی سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے ،پوری دنیا کے معاشروں پر انکی حقیقت عیاں ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیرخزانہ کی امریکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ایگزم بینک کی معاونت بڑھانے پر زور وزیرخزانہ کی امریکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ایگزم بینک کی معاونت بڑھانے پر زور ایران کی پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے ثالثی کی پیشکش مسلم لیگ(ن) کی صوبائی حکومت پھر اوچھے ہتھکنڈوں پر اترا آئی ہے، رہنما پی پی پی چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا مختلف ہفتہ وار بازاروں کا دورہ جعفرآباد اور پہلگام واقعے کی تحقیقات ضروری،مشترکہ کمیشن تشکیل دیا جائے،وزیر داخلہ عمران خان پر حملہ کرنے والے ملزم کو عمر قید کی سزا سنادی گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان پر رہا ہے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔