Express News:
2026-07-24@07:20:03 GMT

دو سالہ امریکی بچی کو ہنڈراس بے دخل کردیا گیا، امریکی جج

اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT

LOUISIANA:

امریکی ریاست لوسیانا کے وفاقی جج نے کہا کہ حکومت نے دو سالہ امریکی شہری بچی کو ماں کے ساتھ ہنڈراس بے دخل کردیا جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا اصرار ہے کہ بچی والدہ نے انہیں ساتھ بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی شہری دو سالہ بچی کو بے دخل کرنے کا مقدمہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں اور امریکی عدلیہ کے درمیان جاری کش مکش کی تازہ ترین مثال ہے کیونکہ انتظامیہ امریکا سے غیر دستاویزی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کے لیے کوشاں ہے۔

وفاقی ضلعی جج ٹیری ڈوٹی نے مقدمے کی سماعت کے لیے 16 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے تاکہ عدالت کے حکم  کے مطابق ان شکوک کو دور کیا جا سکے کہ حکومت نے کسی امریکی شہری کو بغیر مناسب قانونی کارروائی کے ملک بدر کر دیا ہے۔

جج ڈوٹی نے فیصلے میں لکھا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ سب اس لیے درست ہے کیونکہ والدہ چاہتی تھیں کہ ان کی بچی بھی ان کے ساتھ چلی جائے لیکن عدالت کو اس بات کا علم نہیں ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ کسی امریکی شہری کو ملک بدر کرنا غیر قانونی ہے جبکہ بچی کی شناخت صرف ابتدائی حروف وی ایم ایل سے ظاہر کی گئی ہے۔

ملک بدر ہونے والی بچی کے والد کے وکلا نے فوری عبوری حکم کے لیے درخواست دائر کی ہے، تاکہ بچی کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔

خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا وفاقی ججوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ڈیموکریٹس سے کئی مواقع پر تصادم ہوا ہے کیونکہ ان کا مؤقف ہے کہ صدر نے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے میں آئینی حقوق کو پامال کیا یا نظر انداز کیا اور مختلف کیسز میں متاثرین کو سماعت کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔

اسی طرح امریکی حکومت کے ایجنٹوں نے وسکونسن میں ایک جج اس الزام پر گرفتار کیا کہ انہوں نے ایک غیر دستاویزی تارک وطن کو تحفظ دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بھی نظر انداز کر دیا ہے جس میں انتظامیہ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ میری لینڈ کے رہائشی کلمار آبریگو گارشیا کی واپسی کو ممکن بنائے، جسے ایل سلواڈور کی ایک ہائی سیکیورٹی جیل میں ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی شہری ملک بدر

پڑھیں:

کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا

فائل فوٹو 

کراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔

ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی،  ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا