دو سالہ امریکی بچی کو ہنڈراس بے دخل کردیا گیا، امریکی جج
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
LOUISIANA:
امریکی ریاست لوسیانا کے وفاقی جج نے کہا کہ حکومت نے دو سالہ امریکی شہری بچی کو ماں کے ساتھ ہنڈراس بے دخل کردیا جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا اصرار ہے کہ بچی والدہ نے انہیں ساتھ بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی شہری دو سالہ بچی کو بے دخل کرنے کا مقدمہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں اور امریکی عدلیہ کے درمیان جاری کش مکش کی تازہ ترین مثال ہے کیونکہ انتظامیہ امریکا سے غیر دستاویزی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کے لیے کوشاں ہے۔
وفاقی ضلعی جج ٹیری ڈوٹی نے مقدمے کی سماعت کے لیے 16 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے تاکہ عدالت کے حکم کے مطابق ان شکوک کو دور کیا جا سکے کہ حکومت نے کسی امریکی شہری کو بغیر مناسب قانونی کارروائی کے ملک بدر کر دیا ہے۔
جج ڈوٹی نے فیصلے میں لکھا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ سب اس لیے درست ہے کیونکہ والدہ چاہتی تھیں کہ ان کی بچی بھی ان کے ساتھ چلی جائے لیکن عدالت کو اس بات کا علم نہیں ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ کسی امریکی شہری کو ملک بدر کرنا غیر قانونی ہے جبکہ بچی کی شناخت صرف ابتدائی حروف وی ایم ایل سے ظاہر کی گئی ہے۔
ملک بدر ہونے والی بچی کے والد کے وکلا نے فوری عبوری حکم کے لیے درخواست دائر کی ہے، تاکہ بچی کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا وفاقی ججوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ڈیموکریٹس سے کئی مواقع پر تصادم ہوا ہے کیونکہ ان کا مؤقف ہے کہ صدر نے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے میں آئینی حقوق کو پامال کیا یا نظر انداز کیا اور مختلف کیسز میں متاثرین کو سماعت کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔
اسی طرح امریکی حکومت کے ایجنٹوں نے وسکونسن میں ایک جج اس الزام پر گرفتار کیا کہ انہوں نے ایک غیر دستاویزی تارک وطن کو تحفظ دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بھی نظر انداز کر دیا ہے جس میں انتظامیہ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ میری لینڈ کے رہائشی کلمار آبریگو گارشیا کی واپسی کو ممکن بنائے، جسے ایل سلواڈور کی ایک ہائی سیکیورٹی جیل میں ملک بدر کر دیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی شہری ملک بدر
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔