خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 15 خوارج ہلاک، 2 اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کرک میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 8 خوارج مارے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 15 خوارج ہلاک ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر پختونخوا کے 3 مختلف علاقوں میں آپریشنز خفیہ اطلاعات پر کیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کرک میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 8 خوارج مارے گئے۔ دوسری کارروائی شمالی وزیرستان میں کی گئی جہاں سکیورٹی فورسز نے 4 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ تاہم فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران دھرتی کے دو بہادر سپوت لانس نائیک عثمان مہمند اور سپاہی عمران خان جام شہادت نوش کرگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 28 سال کے لانس نائیک عثمان مہمند شہید کا تعلق چارسدہ سے ہے جب کہ 26 سال کے سپاہی عمران خان کا تعلق ضلع کرم سے ہے۔ تیسری جھڑپ جنوبی وزیرستان کے علاقے گومل زام میں ہوئی جہاں پاک فوج کے جوانوں نے 3 خوارج کو ہلاک کیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا، مارے گئے خوارج دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دیگر ممکنہ خوارج کے خاتمے کےلیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کےلیے پُر عزم ہیں، بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر کے مطابق سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔