خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 15 خوارج ہلاک، 2 اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کرک میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 8 خوارج مارے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 15 خوارج ہلاک ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر پختونخوا کے 3 مختلف علاقوں میں آپریشنز خفیہ اطلاعات پر کیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کرک میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 8 خوارج مارے گئے۔ دوسری کارروائی شمالی وزیرستان میں کی گئی جہاں سکیورٹی فورسز نے 4 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ تاہم فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران دھرتی کے دو بہادر سپوت لانس نائیک عثمان مہمند اور سپاہی عمران خان جام شہادت نوش کرگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 28 سال کے لانس نائیک عثمان مہمند شہید کا تعلق چارسدہ سے ہے جب کہ 26 سال کے سپاہی عمران خان کا تعلق ضلع کرم سے ہے۔ تیسری جھڑپ جنوبی وزیرستان کے علاقے گومل زام میں ہوئی جہاں پاک فوج کے جوانوں نے 3 خوارج کو ہلاک کیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا، مارے گئے خوارج دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دیگر ممکنہ خوارج کے خاتمے کےلیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کےلیے پُر عزم ہیں، بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر کے مطابق سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔