Express News:
2026-07-24@04:09:51 GMT

بھارت کا جنگی جنون

اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT

پاکستان اور بھارت دوبارہ سے جنگ کے دوراہے پر پہنچ چکے ہیں۔ پہلگام میں ہونے والے واقعے نے پاکستان اور بھارت کو دوبارہ سے آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ یہ واقعہ واضح طور پر فالس فلیگ آپریشن ہے اور بہت سے سوالات لیے ہوئے ہے۔

بھارت نے غیر سرکاری طور پر حملے کے 3 منٹ بعد ہی الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا یعنی ابھی حملہ آور جنگل میں گم ہو رہے تھے تو سوشل میڈیا پر نہ صرف اس واقعے کی اطلاعات تھیں بلکہ پاکستان پر اس کا الزام بھی عائد کردیا گیا تھا۔ ایک گھنٹے میں بھارتی سوشل میڈیا بریگیڈ نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر مجرم بھی بنادیا تھا۔

کشمیر میں یہ واقعہ پہلگام کے علاقے میں ہوا ہے جو لائن آف کنٹرول سے 400 کلومیٹر دور ہے۔ اس کو آسانی کےلیے سمجھ لیں کہ لاہور سے اسلام آباد کا فاصلہ تقریباً اتنا ہے اور موٹروے کی ہموار سڑک سے سفر کرتے ہوئے 120 کی رفتار کے ساتھ تقریباً 4 گھنٹے لگتے ہیں۔ پہلگام کا یہ علاقہ ویران اور بیابان نہیں ہے، یہ ایک سیاحتی علاقہ ہے جہاں انڈین آرمی کی اسپیشل یونٹس تعینات ہوتی ہیں۔ پہلگام تک پہنچنا البتہ اتنا آسان نہیں ہے۔ راستہ پرخطر ہے۔ خان صاحب کے ورلڈ کپ ثانی کی فتح کے بعد اس علاقے میں سیاحت میں مزید اضافہ بھی دیکھنے میں آیا تھا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بھارت میں امریکی نائب صدر دورے پر موجود تھے تو کیا وجہ ہے کہ اتنا بڑا سیکیورٹی خلا نظر آیا؟ بھارت کو اپنی انٹیلی جنس پر مان ہے تو کیا یہ واقعہ اس کی انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں ہے؟ کیا وجہ ہے کہ پہلگام میں ہونے والے اس واقعے کے وقت سیکیورٹی موجود نہیں تھی جبکہ یہ ایک مکمل سیاحتی علاقہ ہےاور یہاں بین الاقوامی سیاح بھی آتے ہیں اور ماضی میں یہاں پر اسپیشل یونٹس تعینات ہوتی ہیں۔

جب یہ واقعہ پیش آیا تو سیکیورٹی کہاں تھی؟ اگر فرض کرنے کےلیے یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ حملہ آور پاکستان سے یہاں تک آئے تھے تو وہ کیسے 400 کلومیٹر کا فاصلہ طے بھی کر گئے اور پھر انہوں نے تمام چیک پوسٹس کی آنکھوں میں دھول بھی جھونک دی۔ فوجی چھاؤنیوں میں موجود فوجی بھی سوتے رہے اور وہ حملہ کرکے واپس بھی چلے گئے، یعنی 800 کلومیٹر کا فاصلہ ایسے طے کیا کہ انڈیا کی دس لاکھ فوج کے پاس کوئی سراغ نہیں ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے؟

جس گروپ نے اس واقعے کی ذمے داری قبول کی ہے، وہ مقامی گروہ ہے اور یہ 2019 میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سامنے آیا ہے۔ پہلے یہ آن لائن اپنے نظریات پھیلاتا تھا، اس کے بعد اس نے زمینی طور پر خود کو منظم کرنا شروع کیا اور 2023 میں انڈین حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی۔

واضح رہے کہ پابندی کے حامل تمام گروہ انٹیلی جنس کی خصوصی نگرانی میں ہمہ وقت رہتے ہیں۔ جب اس گروہ کی جانب سے پلاننگ ہورہی تھی تو بھارتی انٹیلی جنس کیا کر رہی تھی؟ اس نے اس حملے کو روکنے کےلیے کیا عملی اقدامات کیے تھے؟ ذمے داری قبول کرنے والا مقامی گروہ ہے جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تو کیسے پاکستان اس حملے میں ملوث ہے؟

بھارت کا ہمیشہ سے یہی وتیرہ رہا ہے کہ وہ بغیر ثبوت پاکستان پر الزام عائد کرتا ہے اورجب یہ روتا ہے تو عالمی برادری سے اس کو ہمدردیاں بھی مل جاتی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارت نے اس واقعے کے جواب میں کچھ خوفناک اقدامات کیے ہیں۔ اس نے سب سے پہلے سندھ طاس معاہدہ معطل کیا ہے۔ یہاں یہ واضح نہیں ہے کہ یہ معاہدہ معطل ہوا ہے کہ منسوخ ہوا ہے۔ اگر معطل بھی ہوا ہے تو بھی اُسی معاہدے کے مطابق بھارت اس کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کرسکتا، اس معاہدے کا ضامن ورلڈ بینک ہے۔ اب اگر پاکستان اس کے جواب میں شملہ معاہدے کو معطل یا منسوخ کردیتا ہے تو بھارت کو پھر سوچنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ بھارت نے پاکستانیوں کو بھارت چھوڑنے کا حکم دیا ہے اور اس کےلیے 48 گھنٹے دیے ہیں۔

بھارت نے اٹاری بارڈر کو بھی بند کردیا ہے۔ اس کے ساتھ بھارت نے پاکستان میں سفارتی عملہ کم کرتے ہوئے پاکستان کے سفارتی عملہ کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ سارے اقدامات بھارت نے تب کیے ہیں جب ابھی اس حملے میں پاکستان کی شمولیت کے کسی بھی سطح پر کوئی بھی ناقابل تردید ثبوت موجود نہیں ہیں۔ یہ اقدامات یہ واضح کرتے ہیں کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق نہیں چاہتا اور پاکستان جتنا مرضی ہمسائے کے ساتھ امن کی خواہش رکھ لے، ہمسایہ پاکستان کے ساتھ امن کی خواہش نہیں رکھتا ہے۔

عقلی دلیل پر دیکھا جائے تو پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت اتنی بیوقوف نہیں ہے کہ وہ امریکی نائب صدر کی بھارت موجودگی میں ایسا حملہ کرنے کی حماقت کرے۔ پاکستان نے ٹرمپ کے بعد اپنے تعلقات بہت حکمت کے ساتھ امریکی قیادت سے استوار کیے ہیں، وہ کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھائے گا جس سے خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا ملے۔

پاکستان کے اپنے مسائل ہیں، اور وہ ان کو حل کرنے میں مصروف ہے، اس کو مزید مسائل کھڑے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ 2019 کی فروری میں مودی ہی کی قیادت میں بھارت نے لائن آف کنٹرول کا محاذ گرم کرنے کی کوشش کی تھی۔ پاکستان نے اس کے جواب میں جہاں اسرائیلی حکام کے ساتھ بھارت کی ہائی پروفائل میٹنگ ہو رہی تھی، اس کے قریب خالی پے لوڈ ڈراپ کرکے پیغام دیا تھا کہ ہم کہاں تک پہنچ کر کیا کرسکتے ہیں اور ابھینندن والے واقعے کو تو خیر سے عالمی شہرت ملی تھی جس میں دنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی تھی۔ بھارت نے تب الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے ایف سولہ سے حملہ کیا ہے، وہ الزام بھی جھوٹا نکلا تھا۔ بھارت نے تب دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستان کا ایف سولہ مار گرایا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ایف سولہ اور جے ایف 17 تھنڈر کی تعداد بھی پوری نکلی تھی۔ اس واقعے نے بھارت کو عالمی سطح پر شرمندہ کیا تھا اور پاکستان کی فضائیہ کی دھاک بٹھائی تھی۔

2019 میں ہی بھارت وار ہیڈز کو بارڈر تک لے آیا تھا، جواب میں پاکستان نے نیوکلیئر وار ہیڈز بارڈرز کے ساتھ لگا دیے تھے جس کے بعد عالمی طاقتوں نے فوری اس آگ کو ٹھنڈا کیا تھا۔ تب متحدہ عرب امارت کے شاہی خاندان اور پرنس کریم آغا خا ن نے آگ بجھانے میں کردار ادا کیا تھا۔

پاکستان بھارت کو کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کےلیے تیار ہے۔ بھارت جیسا قدم اُٹھائے گا، پاکستان جواب میں ویسا ہی شدید ترین قدم اُٹھائے گا۔ پاکستان 2019 میں بھی خاموش نہیں بیٹھا تھا، پاکستان اب بھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔ بھارت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ 25 کروڑ عوام پر مشتمل جدید ترین ایٹمی صلاحیتوں کا حامل پاکستان ہے، اس کی خالہ کا گھر نہیں ہے، لہٰذا بالی ووڈ کے اسکرپٹ سے باہر آکر حقائق کا سامنا کرے، حقائق بالکل مختلف ہیں۔ بھارت کا جنگی جنون اس خطے کےلیے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کےلیے شدید ترین خطرہ ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے پاکستان پاکستان کے انٹیلی جنس پاکستان نے میں بھارت بھارت کو یہ واقعہ بھارت نے اس واقعے جواب میں کیا تھا نہیں ہے کے ساتھ کرنے کی ہوا ہے ہے اور کے بعد

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا