پاک فوج کی جانب سے بھارتی دہشتگردی کے ثبوت سامنے لانے پر ہندوستان میں مودی سرکار پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
پاک فوج کی طرف سے پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے ثبوت میڈیا پر لانے کے بعد ہندوستان میں مودی سرکار پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
بھارتی شہری سوال اٹھا رہے ہیں مودی سرکار نے پہلگام حملے کے ثبوت کیوں سامنے نہیں لائے۔
یہ بھی پڑھیں بھارت پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں ملوث، فوجی ترجمان نے ثبوت پیش کردیے
’ایکس‘ پر ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ جو پہلے بول گیا اسی کی سنی گئی، اب مودی صرف شور مچا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف نے آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کرانے کے ثبوت میڈیا کے سامنے لائے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت پاکستان میں دہشتگردوں کو آپریٹ کرتا ہے، 25 اپریل کو بھارتی تربیت یافتہ ایک دہشتگرد جہلم بس اڈے سے پکڑا گیا۔ گرفتار شخص مجید کے گھر سے بھارتی ڈرون اور ڈھائی کلو بارودی مواد برآمد ہوا، جبکہ 10 لاکھ روپے کیش بھی ملے۔
انہوں نے کہاکہ گرفتار شخص کے موبائل فون سے بھارت میں ہونے والی گفتگو پکڑی گئی، ہمارے پاس بھارت کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، بھارت دہشتگردوں کو اسلحہ سمیت دیگر سہولت کاری بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں مودی سرکار کا کشمیری مسلمانوں کے خلاف بھیانک منصوبہ، 40 ہزار انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دیے
میجر جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کے دوران بھارتی فوج کے آفیسر کی دہشتگرد سے ہونے والی گفتگو بھی سنائی جس میں وہ پاکستان میں موجود دہشتگرد کو ہدایات دے رہا ہے۔ اور کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں لوگوں کی لاشیں چاہیے، ایسی کارروائی کرو کہ میڈیا پر رپورٹ ہو اور نظر آئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارتی دہشتگردی پاک فوج تنقید ثبوت مودی سرکار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی دہشتگردی پاک فوج ثبوت مودی سرکار وی نیوز پاکستان میں مودی سرکار کے ثبوت
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے