بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر میں ماہ اپریل کے دوران 9 کشمیریوں کو شہید کیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
ذرائع کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے تین کو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہید کیا گیا۔ ان شہادتوں کی وجہ سے ایک خاتون بیوہ اور پانچ بچے یتیم ہو گئے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران گزشتہ ماہ اپریل میں 9 کشمیریوں کو شہید کیا۔ ذرائع کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے تین کو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہید کیا گیا۔ ان شہادتوں کی وجہ سے ایک خاتون بیوہ اور پانچ بچے یتیم ہو گئے۔ بھارتی فوج، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس، پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آئی کے، این آئی اے اور ایس آئی اے جیسی بدنام زمانہ ایجنسیوں نے کم از کم 2480شہریوں کو گرفتار کیا جن میں زیادہ تر سیاسی کارکن، نوجوان، تاجر اور طلباء شامل میں۔ اختلاف رائے کی آوازوں کو دبانے اور غیر قانونی نظربندیوں کو طول دینے کے لئے متعدد افراد کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون یو اے ای اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت نظربند کیا گیا ہے۔ اس دوران نامعلوم حملہ آوروں نے ضلع اسلام آباد کے علاقے پہلگام کے قریب بائسرن کے سیاحتی مقام پر 25 غیر کشمیریوں اور ایک مقامی کشمیری کو فائرنگ کر کے ہلاک اور 15 افراد کو زخمی کیا۔ بھارتی فورسز نے علاقے میں 36 رہائشی مکانات کو تباہ کیا یا ان کو شدید نقصان پہنچایا۔ بھارتی فورسز نے ایک ماہ کے دوران علاقے میں محاصرے اور تلاشی اور گھروں پر چھاپوں کی 322 کارروائیاں کی جن کے دوران یہ ہلاکتیں، گرفتاریاں اور مکانات کی تباہی کی گئی۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایت پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت فرقہ پرست اور بدعنوان انتظامیہ نے اس دوران کشمیریوں کی 31جائیدادیں ضبط کر لیں جن میں رہائشی مکانات، دکانیں اور زرعی زمینیں شامل ہیں۔جائیدادوں کی غیر قانونی ضبطگی کشمیریوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے اور حق خودارادیت کے لئے ان کے عزم کو تورنے کی بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔