قدرتی وسائل کی کان کنی پر امریکا اور یوکرین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔یکم مئی ۔2025 )یوکرین کے قدرتی وسائل سے متعلق امریکا اور یوکرین کے درمیان بالآخر معاہدہ طے پا گیا واشنگٹن اور کیف نے یوکرین کے قدرتی وسائل سے متعلق معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیںکئی ماہ کے مذاکرات کے بعد کیے گئے اس معاہدے کے تحت یوکرین اپنی نادر معدنیات تک امریکا کو ترجیحی بنیادوں پرڈیل کیلئے رسائی دے گا.
(جاری ہے)
یوکرین کی اول نائب وزیراعظم یولیا سویریڈینکو نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے معدنیات معاہدے پر دستخط کردیے ہیں اور دعوی کیا کہ یوکرین فیصلہ کرے گا کہ کون سی معدنیات کہاں سے نکالنا ہیں ماہرین کا خیال ہے کہ نادر معدنیات کو نکالنے کا کام شروع کرنے کیلئے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے تاہم یوکرین سے اگر یہ معدنیات حاصل کرلی گئیں تو امریکا کا ان نادر معدنیات کیلئے چین اور روس پردرآمدی انحصار کم ہوجائےگا. یوکرین کے پاس دنیا بھر کے گریفائٹ کا 6 فیصد موجود ہے جبکہ یورپ میں لیتھیم، ٹائٹینیم اور یورینیم کاسب سے بڑا ذخیرہ بھی یوکرین ہی میں ہے یہی نہیں یہ ملک بیریلیئم کی بھی غیرمعمولی مقدار کا حامل ہے امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا یوکرین سرمایہ کاری اور تعمیر نو فنڈ قائم کیا جائے گا . نادر معدنیات، تیل اور گیس کے نئے لائسنس سے حاصل 50 فیصد ریونیو سے چلنے والے اس فنڈ کا انتطام امریکا اور یوکرین مل کر کریں گے یہ بھی کہ امریکا اس فنڈ میں براہ راست رقم اور فوجی امداد کے ذریعے شامل ہوگا معاہدے کے تحت کم یاب معدنیات کی مستقبل میں فروخت سے حاصل آمدنی میں امریکا کو حصہ دیا جائےگا اس طرح جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کو دی گئی 175 ارب ڈالر امداد کی امریکا کو واپسی ممکن بنے گی. امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ روس کو پیغام ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے امن عمل کیلیے پرعزم ہے جس کا محور آزاد، خودمختار اور خوشحال یوکرین ہو واضح رہے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے فوجی امداد کے بدلے میں یوکرین اپنی نادر معدنیات تک امریکا کو رسائی دے گا. یوکرین کے صدر زیلنسکی کے فروری میں دورہ واشنگٹن کا مقصد بھی اس ڈیل پر دستخط کرنا تھا تاہم اوول آفس میں صدر ٹرمپ سے سخت جملوں کے تبادلے کے بعد انہیں دورہ مختصر کرکے وطن واپس جانا پڑگیا صدر زیلنسکی نے معدنیات تک رسائی کے ذریعے امریکا کی جانب سے 5سو ارب ڈالر لینے کا مطالبہ اس وقت یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ امریکا نے یوکرین کو اس قدر فوجی امداد دی ہی نہیں اور یہ بھی کہ واشنگٹن کی جانب سے کوئی سکیورٹی گارنٹی بھی نہیں دی جارہی. امریکا کی جانب سے دباﺅ بڑھنے پر صدر زیلنسکی نے بعد میں اس جانب پیشرفت کو سکیورٹی اور سلامتی کی یقین دہانیوں کی جانب قدم قرار دے دیا تھا پوپ فرانسس کی آخری رسومات کے موقع پر امریکا اور یوکرین کے صدور کی ملاقات نتیجہ خیز ثابت ہوئی . رپورٹ کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ کوئی بھی ریاست یا ملک جس نے جنگ میں روس کی مدد کی ہے اسے یوکرین کی تعمیر نو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکا نے یوکرین کی فوجی امداد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے نادر معدنیات کے حصول سے جوڑ دیا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکا اور یوکرین نادر معدنیات فوجی امداد کی جانب سے یوکرین کے امریکا کو کہ امریکا
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔