امریکی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کے لیے ٹیرف میں کمی، پاکستان اور امریکا کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اسلام آباد/واشنگٹن: پاکستان اور امریکا نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے، منڈیوں تک رسائی بڑھانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک اہم تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔یہ پیش رفت واشنگٹن ڈی سی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نِک اور امریکی تجارتی نمائندے ایمبیسڈر جیمی سن گریر کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق، اس معاہدے کے تحت پاکستان کی امریکا کو برآمد کی جانے والی اشیاء پر عائد محصولات (ٹیرف) میں نمایاں کمی کی جائے گی جس سے پاکستانی مصنوعات کو امریکی منڈی میں مزید رسائی حاصل ہوگی اور پاکستانی برآمد کنندگان کو بین الاقوامی سطح پر مسابقتی برتری حاصل ہو گی۔امریکی منڈی میں پاکستانی مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں نرمی کا براہِ راست فائدہ ٹیکسٹائل، زراعت، معدنیات اور دیگر صنعتی شعبوں کو پہنچے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، امریکی کمپنیاں پاکستان کے توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کرپٹو کرنسی، کان کنی، معدنیات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں گی۔معاہدہ امریکی ریاستوں اور پاکستانی اداروں کے درمیان براہِ راست تعاون کی راہیں بھی کھولے گا.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے درمیان
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔