Juraat:
2026-06-03@02:59:46 GMT

سندھ طاس معاہدہ کی معطلی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

سندھ طاس معاہدہ کی معطلی

ریاض احمدچودھری

بھارت اور پاکستان کے مابین جنگوں کے باوجود سندھ طاس آبی معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے برقرار رہا لیکن پہلگام حملے کے بعد نئی دہلی نے اسے یکطرفہ طور پر معطل کردیا ہے۔اس اقدام سے پاکستان کو پانی کا بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔جنوبی ایشیا کے جوہری طاقت رکھنے والے دو حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان پچھلے پچہتر سال کے دوران کئی جنگیں ہو چکی ہیں اور دونوں کے درمیان بیشتر اوقات تعلقات کشیدہ رہے ہیں، تاہم پانی کے ایک اہم وسیلے سے متعلق چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے قبل کیا گیا سندھ طاس آبی معاہدہ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔لیکن، بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے اہم سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے، جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے، نے اس معاہدے کو بھی متاثر کردیا۔ بھارت نے اپنی طرف سے اس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے سکریٹری وکرم مصری نے معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، "1960 کا سندھ آبی معاہدہ اب سے اس وقت تک غیر نافذ العمل رہے گا، جب تک کہ پاکستان قابل اعتبار اور ٹھوس طور پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو جاتا”۔ 1960 کا سندھ طاس آبی معاہدہ دونوں دیرینہ حریف پڑوسیوں کو دریائے سندھ کے پانی تک مشترکہ رسائی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
برطانوی اخبار نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو علاقائی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔برطانوی اخبار نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بھارت کے یکطرفہ فیصلے کو عالمی سطح پرتنقید کا سامنا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان اور بھارت میں آبی تناؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات سے پانی کی سیکیورٹی پر کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے، معاہدے کی عارضی معطلی کے دونوں ممالک پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کو یکطرفہ اقدامات پر نظرثانی کرنی چاہیے، بھارت کا موقف خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔پاکستان کے خلاف یکطرفہ اقدامات بھارت کی آبی سیکیورٹی کے لیے بھی نقصان دہ ہے، ماضی کے تنازعات کے باوجود سندھ طاس معاہدہ امن کی بنیاد رہا ہے۔
پہلگام فالس فلیگ حملے کی آڑ میں بھارت کی آبی جارحیت کو سیاسی رہنماوں اورقانونی ماہرین نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی قراردے دیا۔پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان نے کہا کہ عالمی معاہدے اس طرح یک طرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں ہوتے، سندھ طاس معاہدہ جنگیں ہونے کے باوجود فعال رہا ہے۔سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ بھارت اگر پاکستان کا پانی روکتا ہے تو یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگ کے مترادف ہوگا، بھارت پاکستان کا یا چین بھارت کا پانی بند کرے تو حالات مزید خراب ہوں گے۔بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ بھارت کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں کہ وہ سندھ طاس کے عالمی معاہدے کو یکطرفہ ختم کردے، اگر بھارت ایسے معاہدہ معطل کرسکتا ہے تو پھر کوئی اور پڑوسی ملک بھی ایسا کرسکتا ہے۔سابق سفیرعبدالباسط کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کرسکتا، بھارت اپنے ملک میں مسلمانوں کے وقف قانون کے خلاف احتجاج ختم کرنے کے لئے کوئی کارروائی کرسکتا ہے۔سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے بعد مغربی دریاؤں کی نگرانی وزارت آبی وسائل اور واپڈا کر رہے ہیں، بھارت کے پاس دریا کا بہاؤ روکنے یا اس میں تبدیلی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، بھارت کی جانب سے پاکستان کی پانی کی ضروریات کو خطرہ لاحق نہیں ہے۔
بھارت کے پاس اس وقت مغربی دریاؤں پر محض 0.

624 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش ہے، اس کے مقابلے میں صرف پاکستان کے منگلا ریزروائر میں 7.35 ملین ایکڑ گنجائش ہے لہٰذا پاکستان کے پانی کی فراہمی کے حوالے سے کوئی خاص یا مستقل رکاوٹ متوقع نہیں ہے۔ان بھارتی سرگرمیوں کا مقصد بنیادی طور پر ایک بیانیہ بنانے کی کوشش ہے، وزارت آبی وسائل اور واپڈا صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور بروقت اپ ڈیٹ جاری کر رہے ہیں۔دوسری جانب ماہرین نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کو آبی سلامتی اور پانی کے لحاظ سے فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے، موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں فاسٹ ٹریک بنیادوں پر بڑے آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے۔
پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے آبی دہشت گردی شروع کرتے ہوئے دریائے چناب اور جہلم کا پانی روک لیا۔ بھار ت کی جانب سے دریائے جہلم کا 5 ہزار کیوسک اور دریائے چناب کا 7 ہزار کیوسک پانی روک لیا گیا ہے۔دریائے جہلم میں گزشتہ روز پانی کا بہاؤ 49 ہزار کیوسک تھا، دریائے جہلم میں پانی کا بہاؤ 44 ہزار کیو سک ہے، اسی طرح دریائے چناب میں گزشتہ روز پانی کا بہاؤ 29 ہزار کیوسک تھا، جبکہ دریائے چناب میں آج پانی کا بہاؤ 22 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بھار ت نے دریائے چنا ب پر بگلیہار ون اور ٹو پر دو پن بجلی منصوبے تعمیر کر رکھے ہیں، دریائے جہلم پر غیر قانونی کشن گنگا اور وولر بیراج بنا رکھے ہیں۔واضح رہے کہ دونوں دریاؤں پر بھارت اس سے پہلے بھی آبی دہشت گردی کرتا رہا ہے۔دریائے جہلم میں اضافی پانی چھوڑنے کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے اعلان کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگا جبکہ بھارت کی یہ کوشش صرف اپنی عوام کو بیوقوف بنانے کی بھونڈی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ بھارت نے پہلے دریائے جہلم میں اضافی پانی چھوڑ کر سیلابی صورتحال کا تاثر دینا چاہا، بھارت کی اس کوشش کے نتیجے میں مظفر آباد کے علاقے ڈومیل سے 22 ہزار کیوسک کا ریلا گزرا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے کی معطلی آبی معاہدہ پاکستان کے معاہدے کو کہ بھارت بھارت کے معطلی کے بھارت کی کا بہاؤ کا پانی نہیں ہے پانی کا رہے ہیں نے کہا

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی