تجارتی خسارے میں ماہانہ بنیاد پر اپریل میں 55.20 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
ملک کا تجارتی خسارہ اپریل میں ماہانہ بنیادوں پر 55.20 فیصد بڑھ کر 3 ارب 38 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ز پر پہنچ گیا جبکہ برآمدات میں 19.05 فیصد تنزلی سے 2 ارب 14کروڑ 10 لاکھ ڈالرز رہیں۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2024 تا اپریل 2025 کے دوران تجارتی خسارہ 8.81 فیصد بڑھ کر21 ارب 35 کروڑ ڈالرز سے تجاوز کر گیا۔
اعداد وشمار کے مطابق اپریل میں سالانہ بنیاد پرتجارتی خسارے میں 35.
وفاقی ادارہ شماریات نے آگاہ کیا کہ رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران برآمدات 6.25 فیصد بڑھ کر 26 ارب 85 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گئیں، اپریل میں ماہانہ بنیاد پر درآمدات میں 14.52 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ سالانہ بنیاد پر اس میں 14.09 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اپریل کے دوران درآمدات 5 ارب 52 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز رہیں، اعداود شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران درآمدات 7.37 فیصد بڑھ کر 48 ارب 21 کروڑ ڈالرز رہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ماہانہ بنیاد فیصد بڑھ کر لاکھ ڈالرز ڈالرز رہیں اپریل میں کے دوران بنیاد پر
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔