جنگ مسلط کی تو دہلی تک پیچھا کرینگے، مظہر شاہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بالاکوٹ میں عظیم الشان یکجہتی کشمیر و فلسطین ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہماری صرف چائے ہی نہیں میزائل بھی فینٹاسٹک ہیں، قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ فضائے بدر بنانے کیلئے تیار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اطلاعات مولانا پیر محمد مظہر سعید شاہ نے بالاکوٹ میں عظیم الشان یکجہتی کشمیر و فلسطین ریلی کی قیادت کی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات مولانا پیر محمد مظہر سعید شاہ نے کہا کہ ہم جنگ کے خواہاں نہیں لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو دہلی سے پہلے یہ قافلہ نہیں رکے گا، ہماری صرف چائے ہی نہیں میزائل بھی فینٹاسٹک ہیں، قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ فضائے بدر بنانے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان معاشی طاقت کے گھمنڈ میں نہ رہے، ہمارے اسلاف نے روم اور فارس کی طاقت کو زیر کیا ہے۔ مولانا پیر محمد مظہر سعید شاہ نے کہا کہ ہندوستان کو مکروفریب اور کیمرے کے پیچھے نہیں چھپنے دیں گے، ہندوستان کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا بھی مقابلہ کریں گے اور اگر ہندوستان نے کسی ایڈونچر کی کوشش کی تو صرف فضاء نہیں اس کی سانسیں بھی بند کر دیں گے۔ انہوں نےکہا کہ ہم امن کے خواہاں ہیں لیکن اگر جنگ چھیڑی گئی تو بھرپور جواب دین گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔