پاکستان اور انڈیا کی جوہری طاقت کا موازنہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
جنوبی ایشیاء ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حالیہ واقعات اور بھارت کی طرف سے لگائے گئے الزامات نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے، میڈیا میں جنگی بیانیہ، اور سیاسی سطح پر تنا نے عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ دونوں ممالک ایٹمی طاقت کے حامل ہیں اور کسی بھی معمولی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں صورتحال غیر معمولی رخ اختیار کر سکتی ہے۔پاکستان اور بھارت کی جوہری صلاحیت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ سویڈن کے معروف تحقیقی ادارے SIPRI (Stockholm International Peace Research Institute) کے مطابق، 2024ء تک بھارت کے پاس تقریباً 172 جوہری وار ہیڈز جبکہ پاکستان کے پاس 170 کے قریب ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ گو کہ یہ تعداد بہت زیادہ نہیں سمجھی جاتی لیکن جنوبی ایشیاء جیسے گنجان آباد خطے میں یہ تباہی کے لیے کافی ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھارت کے مقابلے میں زیادہ منظم، تیز ردعمل کا حامل اور حکمت عملی کے لحاظ سے بہتر ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان “No First Use” کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے، یعنی پاکستان نے کبھی کسی جنگ میں پہل نہیں کی۔ بھارت کی جانب سے 2019ء میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں پاکستان نے نہایت ضبط، ہوشمندی اور عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف بھارتی طیارہ مار گرایا تھا بلکہ پائلٹ ابھی نندن کو چائے پلا کر محفوظ طریقے سے واپس بھی کر دیا تھا۔ یہ پاکستان کی ہی ہوش مندی تھی کہ اس کے بعد کوئی بڑا جنگی تنازعہ پیدا نہیں ہوا تھا۔
جوہری ہتھیار صرف اس وقت موثر ہوتے ہیں جب ان کی ترسیل کے لئے قابلِ اعتماد نظام بھی موجود ہو۔ پاکستان نے اس حوالے سے قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پاکستان کے پاس بیلسٹک اور کروز میزائلز کی ایک مکمل رینج موجود ہے، جن میں شاہین-1، شاہین-2، شاہین-3، غوری، غزنوی، عبداللہ، نصر، بابر اور رعد شامل ہیں۔ ان میں سے شاہین-3 کی رینج تقریباً 2,750 کلومیٹر ہے، جو بھارت کے مشرقی علاقوں تک مار کر سکتا ہے۔ رعد میزائل کروز ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو طیارے سے لانچ کیا جاتا ہے اور دشمن کے ریڈار سسٹم سے بچتے ہوئے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔دوسری طرف بھارت نے بھی اگنی سیریز کے میزائلز میں خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ اگنی-5 ایک لانگ رینج میزائل ہے اور بھارت اب اگنی-6 پر کام کر رہا ہے، جس کی رینج 6,000 کلومیٹر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کا میزائل سسٹم چین تک بھی پہنچ سکتا ہے۔اگر روایتی افواج کی بات کی جائے تو بھارت کو تعداد میں برتری حاصل ہے۔ Global Firepower 2024 کے مطابق،بھارت کے پاس تقریبا ً14لاکھ فعال فوجی ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 6 سے 7لاکھ کے قریب۔بھارت کے پاس 4,700 ٹینک، 2,200طیارے اور 295نیوی یونٹس ہیں۔پاکستان کے پاس 3,700 ٹینک، 1,400 طیارے اور 114نیوی یونٹس موجود ہیں۔لیکن جنگیں صرف تعداد سے نہیں جیتی جاتیں۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جس کامیابی سے جنگ لڑی ہے اس نے اس کی افواج کو میدانِ جنگ میں زیادہ تجربہ کار اور موثر بنا دیا ہے۔
پاکستان نے جے ایف-17تھنڈر جیسے جدید لڑاکا طیارے چین کے اشتراک سے تیار کئے ہیں جو بھارت کے مگ-29 اور تیجس کا موثر جواب ہیں۔ اسی طرح پاکستان نے چین، ترکی اور دیگر اتحادی ممالک سے دفاعی تعاون بڑھایا ہے۔ایٹمی جنگ کی صورت میں نقصانات کا اندازہ لگانا ممکن نہیں لیکن تحقیقی ادارے اور ماحولیاتی تنظیمیں خبردار کر چکی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان محدود پیمانے پر بھی جوہری جنگ ہوتی ہے تو صرف ابتدائی حملے میں 50 سے 100لاکھ افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ تابکاری کے اثرات نسلوں تک محسوس کئے جائیں گے۔ کھانے پینے کی قلت، بیماریاں اور مہاجرین کا بحران پیدا ہو جائے گا۔ فضا میں گرد و غبار اور ایٹمی دھماکوں سے سورج کی روشنی متاثر ہوگی اور دنیا بھر کا درجہ حرارت کئی ڈگری کم ہو سکتا ہے۔ فصلیں اگنا بند ہو جائیں گی اور دنیا کو غذائی بحران کا سامنا ہو گا۔اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی معیشت کو بھی بڑا دھچکا لگے گا۔ جنوبی ایشیا ء ایک بڑی افرادی قوت اور ابھرتی ہوئی منڈیوں کا خطہ ہے۔ جنگ کی صورت میں نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کی مارکیٹس میں عدم استحکام پیدا ہو گا، سرمایہ کاری رک جائے گی، تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور عالمی تجارتی سپلائی چین متاثر ہوگی۔ایسی صورت حال میں عالمی برادری کی ذمے داری بھی بڑھ جاتی ہے۔
اقوامِ متحدہ، امریکہ، چین، روس اور یورپی یونین جیسے بااثر ممالک کو فوری طور پر ثالثی کا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ کشمیر جیسے بنیادی مسئلے کو حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں دیرپا امن ممکن نہیں۔بھارت عددی اعتبار سے یقینا ایک بڑی فوجی طاقت ہیجس کی فوجی نفری، دفاعی بجٹ اور اسلحہ جات کی تعداد پاکستان سے زیادہ ہے لیکن جب بات ایٹمی صلاحیت کی ہو تو دونوں ممالک تقریبا ًبرابری کی سطح پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ دونوں کے پاس قابلِ استعمال ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد 140 سے 170 کے درمیان بتائی جاتی ہے اور دونوں نے مختلف میزائل سسٹمز کے ذریعے اپنی ڈیٹرنس صلاحیت کو مضبوط بنایا ہے۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا تصور بھی تباہ کن ہوتا ہے کیونکہ ایسے میں گنتی فوجیوں یا ٹینکوں کی نہیں بلکہ جوابی ایٹمی صلاحیت (second strike capability) کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ تقریبا برابر ہے، اور یہی توازنِ خوف دونوں کو کھلی جنگ سے باز رکھنے کا باعث بنتا ہے۔پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں لیکن اصل طاقت جنگ میں نہیں بلکہ امن قائم رکھنے میں ہے۔ کسی بھی جنگ میں صرف تباہی ہے خصوصا ایٹمی جنگ تو انسانیت کے لیے مکمل ہلاکت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور بھارت کو بھی سنجیدہ طرزِ عمل اپنانا ہوگا۔ اگر جنوبی ایشیا کو ایٹمی قبرستان بننے سے بچانا ہے تو ہمیں جنگ نہیں امن کی طرف بڑھنا ہوگا۔ بات چیت، مسئلہ کشمیر کا حل، اور باہمی احترام ہی اس خطے کا مستقبل بہتر بنا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت پاکستان کے پاس کہ پاکستان پاکستان نے کے درمیان بھارت کے ہے اور
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز