روس کا پاکستان اور بھارت کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی سے گریز کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں انہوں نے حالیہ علاقائی پیشرفت سے آگاہ بھی کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ نے لاوروف کو حالیہ علاقائی پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ پاکستان کے خلاف بھارت کے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیان بازی کو مسترد کردیا۔
وزیر خارجہ نے آئی ڈبلیو ٹی کو التوا میں رکھنے کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کی مذمت کی جبکہ علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا پختہ طور پر تحفظ کرے گا۔
وزیر خارجہ نے بین الاقوامی، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کے لیے پاکستان کی پیشکش سے بھی آگاہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق روسی وزیر خارجہ لاوروف نے حالیہ کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی سے گریز کریں۔
اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاک روس تعلقات کے مثبت انداز پر بھی تبادلہ خیال کیا جبکہ تمام شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اعلامیے کے مطابق
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔