Express News:
2026-07-24@02:45:40 GMT

اس بار صرف چائے نہیں بسکٹ بھی کھلائیں گے! (آخری حصہ)

اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT

ایک پہلو یہ بھی ہے جو پاکستانیوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ کیا پاکستان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ مودی پاکستان کو ہلکا سمجھ کر ہر دفعہ حملے کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے اور اپنی غلطیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتا رہتا ہے پھر اس کے حملے کو روکنے کے لیے ہمیں صفائیاں پیش کرنا پڑتی ہیں۔ شاید فوجی اعتبار سے تو پاکستان کسی طور پر بھی کمزور نہیں ہے البتہ ملک میں نظریاتی خلفشار اور انتشار اتنا زیادہ ہے کہ دشمن ہمارے اختلافات اور انتشار سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ مودی بغیر کسی ثبوت کے ہر دہشت گرد حملے کا ملبہ پاکستان پر ڈالتا رہتا ہے مگر وہ خود کتنا بڑا دہشت گرد ہے، اس کی دہشت گردی کے چرچے تو کہاں نہیں ہیں۔ کینیڈا ہی کیا امریکا بھی اس کی دہشت گردی کا شکار ہو چکا ہے جس کے ثبوت بھی پیش کیے جا چکے ہیں، کینیڈا میں اس نے سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجرکو خالصتان کی آواز بلند کرنے پر قتل کرایا اور امریکا میں وہ گرپتونت سنگھ پنّو کو قتل کرانا چاہتا تھا مگر وہ بچ گیا۔

کینیڈا کی حکومت نے بھارت کو اپنے شہری نجّر کا قاتل قرار دیا ہے اور اسے اس کی وضاحت کے لیے کہا ہے مگر بھارت نے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے جن دنوں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھارت کے دورے پر آئے تھے گرپتوت سنگھ پنّو نے امریکی نائب صدر سے اپیل کی تھی کہ وہ مودی سے اس کے قتل کی سازش کے بارے میں پوچھ گچھ کریں اور اسے سکھوں کے مطالبات ماننے پر مجبور کریں۔مودی پنّو کے اسی بیان سے گھبرا کر وینس کو دہلی میں ہی چھوڑ کر سعودی عرب کے دورے پر بھاگ نکلا اور وینس کی موجودگی میں ہی پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے بھارت کو معصوم اور مظلوم بنانے کا ڈرامہ رچا ڈالا۔

 مودی نے پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کا اعلان کر کے پوری دنیا میں اپنی دہشت گردی کا ثبوت پیش کردیا ہے۔ حالانکہ ایک کشمیری گروپ جو ’’دی ریزیڈنٹس فرنٹ‘‘ کہلاتا ہے پہلگام حملے کی ذمے داری قبول کر چکا ہے جب ہی کشمیر میں کئی مقامات پر کئی مکانوں کو دھماکوں سے گرایا گیا ہے، شاید یہ انھی لوگوں کے گھر ہوں گے جنھوں نے حملے کا اعتراف کیا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کسی کے گھر کو گرانا کھلی دہشت گردی ہے اور مودی حکومت ایسی دہشت گردی برسوں سے مقبوضہ کشمیر میں کرتی آ رہی ہے اور اسے روکنے والا کوئی نہیں ہے جب پاکستان کشمیریوں پر ظلم کی بات کرتا ہے تو اسے دہشت گرد حملوں کا ذمے دار قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ یہ تمام دہشت گردی کے واقعات مودی سرکار کی اپنی دہشت گردی ہے مگر بدنام پاکستان کو کیا جاتا ہے۔

ریزیڈنٹس فرنٹ دراصل بھارت سرکار کو کئی دفعہ خبردارکرچکا ہے کہ وہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو آباد ہونے کی دعوت نہ دے۔ مودی مقبوضہ جموں کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے لیے پوری کوشش کر رہا ہے وہ بھارت کے دوسرے حصوں سے لوگوں کو لا کر یہاں آباد کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں کام جاری ہے اب تک 35 لاکھ غیر کشمیریوں کو مستقل رہائش کے لیے اسناد جاری کی جا چکی ہیں۔ کشمیر ٹائمز جموں کشمیر کا ایک موقر روزنامہ ہے اس کی مدیرہ انو رادھا بھاسین نے اپنے اخبار کے ایک اداریے میں لکھا کہ پہلگام میں 26 سیاحوں کا قتل یقینا ایک ناقابل برداشت سفاکیت ہے۔

ان مارے جانے والے سیاحوں کی سیکیورٹی کی ذمے داری بھارتی حکومت پر عائد ہوتی ہے افسوس کہ اس سے اجتناب برتا گیا۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد وادی میں سیاحوں کی آمد میں یقینا اضافہ ہوا ہے مگر بدقسمتی سے مودی حکومت کشمیر میں سیاحت کو ایک سیاسی پراجیکٹ کے طور پر متعارف کرا رہی ہے۔ کشمیر میں نارمل حالات کا معیار یہاں بسنے والے عام شہریوں کی سوچ سے نہیں بلکہ سیاحوں کی آمدنی کو قرار دیا گیا ہے۔

مودی حکومت کی جانب سے بڑے فخر سے بتایا جاتا ہے کہ یہاں فلاں سال اتنے لاکھ اور اس کے بعد اس سے بھی زیادہ سیاح آئے اس سے جموں کشمیر کے باسیوں کو یہ تاثر ملا کہ انڈیا سے سیاح یہاں سیر کرنے نہیں بلکہ جیت کا جشن منانے آتے ہیں۔ جب سیاحوں کی آمد کو حکومت کی سیکیورٹی پالیسی کی کامیابی کا اشتہار بنا لیا گیا پھر آزادی سے محروم اور بھارتی ظلم سے متاثرہ کشمیریوں کا اس سے بھڑکنا قدرتی عمل ہے۔

چند سال کی خاموشی سے سیکیورٹی ادارے بھی سمجھنے لگے تھے کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور اب یہ واردات ہو گئی جو سراسر حکومت کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ بہرحال مودی نے پورے بھارت میں جنگی جنون پیدا کر دیا محض اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے، بہرحال پاکستان بھی یہاں تیار بیٹھا ہے ، اب اگر ابھی نندن یا اس جیسا کوئی پاکستانی سرحد میں گھسا تو اسے چائے کے ساتھ بسکٹ بھی ضرور کھلائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیاحوں کی اور اس ہے اور ہے مگر کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع