امکانات کی دنیا میں ہم واقعات کے غلام ہیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
4 مئی کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انڈین ایئر چیف مارشل وی آر چوہدری سے 40 منٹ ملاقات کی، یہ ملاقات مختصر رہی، وی آر چوہدری نے پاکستان میں اہداف کے حوالے سے درست انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی پر اصرار کیا، انڈین ایئر فورس کو اس وقت ایک درجن اسکوارڈن کی کمی کا سامنا ہے۔ بظاہر مضبوط دکھتی انڈین ایئر فورس کے پاس فی جہاز ڈیڑھ (ایک اشاریہ پانچ) پائلٹ دستیاب ہیں، پاکستان ایئر فورس کو ایک جہاز کے لیے ڈھائی (دو اشاریہ پانچ) پائلٹ دستیاب ہیں۔
پاکستان ایئر فورس انڈین ایئر فورس سے زیادہ وقت تک فائٹر جیٹ کو فضا میں رکھ سکتی ہے، زیادہ جلدی متبادل پائلٹ کے ذریعے فائٹر جیٹ کو دوبارہ فضا میں لا سکتی ہے۔ 29 اپریل کو بھارت میں ایک ہائی لیول میٹنگ ہوئی تھی، اس میٹنگ میں نریندر مودی کے علاوہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان، انڈین آرمی، نیوی اور ایئر فورس چیف نے شرکت کی تھی۔
اس اجلاس میں انڈین مسلح افواج کو پہلگام حملے کا جواب دینے کے لیے وقت، ٹارگٹ اور نوعیت کے تعین کا اختیار دے دیا گیا تھا۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس سے پہلے کابینہ سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس 23 اپریل کو ہوا تھا جس میں سفارتی اقدامات، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی منظوری دی گئی تھی۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دینیشن کے تریپاتھی، آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی، وزیردفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان سے الگ الگ ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ بظاہر یہ ساری ملاقاتیں اور انڈین بیانات سے کسی کارروائی کا امکان ظاہر ہوتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ انڈین سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ تناؤ بڑھانے اور سرجیکل اسٹرائیک سے گریز ہی کررہی ہے۔
انڈین آرمی، نیوی اور ایئر فورس پاکستان کو کئی طرح سے چیک کر چکے ہیں، ہر بار وہ کسی قسم کا سرپرائز دینے سے ناکام رہے ہیں، انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ اب اپنی حکومت کو لاجیسٹک مسائل، انٹیلی جنس فیلیئر، پاکستان کے موجودہ نامعلوم سائبر اور الیکٹرانک وار فیئر کی صلاحیت کا بتا کر کسی اسٹرائیک سے پہلے مناسب تیاری کے لیے وقت مانگ رہی ہے۔
انڈیا اس وقت کئی اقسام کے رنگ برنگ اسٹریٹجک اتحاد کا حصہ ہے، آئی ٹو یو ٹو، کواڈ، برکس، ایس سی او کا انڈیا براہِ راست ممبر ہے۔ آکیس یعنی آسٹریلیا، کینیڈا، امریکا اور فائیو آئی اتحاد جس میں امریکا، یو کے، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں سے بھی انڈیا قریبی تعاون کرتا ہے۔ روس کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدے اس کے علاوہ ہیں۔
روسی وزارت خآرجہ نے اپنے اعلامیے میں انڈیا پاکستان کو شملہ معاہدے اور لاہور اعلامیے کے تحت مسائل حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انڈیا کے امریکا اور روس سمیت کئی ملکوں سے قریبی فوجی تعلقات ہیں، ان سب جگہوں سے انڈیا کو یہی مشورہ مل رہا ہے کہ پنگا لینے سے گریز کیا جائے۔
انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنی حکومت کو سمجھانے کے لیے اور معاملے کو لٹکانے کے لیے وقت لے رہی ہے۔ مودی سرکار معاملات کو بوائلنگ پوائنٹ پر لے جا چکی ہے، جہاں سے واپس تو آیا جا سکتا ہے لیکن اس کی سیاسی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ کوئی کاسمیٹک سی فیس سیونگ کارروائی الٹا جگ ہنسائی کا باعث بن سکتی ہے۔
کپتان کے مداح جو بظاہر پاکستان کی حکومت سے ناراض اور جلے بھنے بیٹھے ہیں، وہ یہ کہتے بھی نہیں شرما رہے تھے کہ پہلے کپتان کو رہا کرو پھر ہم مودی کو سیدھے ہوں گے۔ کپتان کو انڈین میڈیا نے جس طرح ایک احمقانہ الزام کا نشانہ بنایا ہے، یہ اخلاق سے گری ہوئی حرکت تو ہے، اس کا ایک دوسرا اینگل بھی ہے۔
لگ یہ رہا ہے کہ انڈین میڈیا سے اب وار ہسٹریا سے دھیان ہٹایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے کسی ایسی بڑی خبر، افواہ یا ڈائیورژن کی تلاش ہو رہی ہے جو لوگوں کو کسی اور بتی کے پیچھے لگا دے، ہمارے خطے کی بدقسمتی ہے کہ ہم ردعمل کی نفسیات کا شکار ہیں، واقعات رونما ہوتے ہیں، وہ سب کچھ بہا لے جاتے ہیں۔
دنیا جب امکانات ڈھونڈ رہی ہے، اک سیٹ پیٹرن پر اپنے لیے نئی دنیا تخلیق کی جا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی ایجادات میں برتری کے لیے زور آزمائی ہو رہی ہے۔ ہمارا خطہ اتنا غیر مستحکم ہے کہ اک آدھ واقعہ ہوتا ہے، وہ واقعہ اتنی طاقت رکھتا ہے کہ آٹو پر دنیا کی 2 ارب آبادی کو آگ میں جھونک سکتا ہے، ہم حالات کے غلام ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔
wenews امریکا بھارت پاک بھارت کشیدگی پاک فوج پاکستان دنیا روس سرجیکل سٹرائیک شہباز شریف نریندر مودی وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارت پاک بھارت کشیدگی پاک فوج پاکستان دنیا سرجیکل سٹرائیک شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز انڈین ایئر ایئر فورس رہی ہے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :