WE News:
2026-06-03@06:49:59 GMT

امکانات کی دنیا میں ہم واقعات کے غلام ہیں

اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT

4 مئی کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انڈین ایئر چیف مارشل وی آر چوہدری سے 40 منٹ ملاقات کی، یہ ملاقات مختصر رہی، وی آر چوہدری نے پاکستان میں اہداف کے حوالے سے درست انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی پر اصرار کیا، انڈین ایئر فورس کو اس وقت ایک درجن اسکوارڈن کی کمی کا سامنا ہے۔ بظاہر مضبوط دکھتی انڈین ایئر فورس کے پاس فی جہاز ڈیڑھ (ایک اشاریہ پانچ) پائلٹ دستیاب ہیں، پاکستان ایئر فورس کو ایک جہاز کے لیے ڈھائی (دو اشاریہ پانچ) پائلٹ دستیاب ہیں۔

پاکستان ایئر فورس انڈین ایئر فورس سے زیادہ وقت تک فائٹر جیٹ کو فضا میں رکھ سکتی ہے، زیادہ جلدی متبادل پائلٹ کے ذریعے فائٹر جیٹ کو دوبارہ فضا میں لا سکتی ہے۔ 29 اپریل کو بھارت میں ایک ہائی لیول میٹنگ ہوئی تھی، اس میٹنگ میں نریندر مودی کے علاوہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان، انڈین آرمی، نیوی اور ایئر فورس چیف نے شرکت کی تھی۔

اس اجلاس میں انڈین مسلح افواج کو پہلگام حملے کا جواب دینے کے لیے وقت، ٹارگٹ اور نوعیت کے تعین کا اختیار دے دیا گیا تھا۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس سے پہلے کابینہ سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس 23 اپریل کو ہوا تھا جس میں سفارتی اقدامات، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی منظوری دی گئی تھی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دینیشن کے تریپاتھی، آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی، وزیردفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان سے الگ الگ ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ بظاہر یہ ساری ملاقاتیں اور انڈین بیانات سے کسی کارروائی کا امکان ظاہر ہوتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ انڈین سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ تناؤ بڑھانے اور سرجیکل اسٹرائیک سے گریز ہی کررہی ہے۔

انڈین آرمی، نیوی اور ایئر فورس پاکستان کو کئی طرح سے چیک کر چکے ہیں، ہر بار وہ کسی قسم کا سرپرائز دینے سے ناکام رہے ہیں، انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ اب اپنی حکومت کو لاجیسٹک مسائل، انٹیلی جنس فیلیئر، پاکستان کے موجودہ نامعلوم سائبر اور الیکٹرانک وار فیئر کی صلاحیت کا بتا کر کسی اسٹرائیک سے پہلے مناسب تیاری کے لیے وقت مانگ رہی ہے۔

انڈیا اس وقت کئی اقسام کے رنگ برنگ اسٹریٹجک اتحاد کا حصہ ہے، آئی ٹو یو ٹو، کواڈ، برکس، ایس سی او کا انڈیا براہِ راست ممبر ہے۔ آکیس یعنی آسٹریلیا، کینیڈا، امریکا اور فائیو آئی اتحاد جس میں امریکا، یو کے، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں سے بھی انڈیا قریبی تعاون کرتا ہے۔ روس کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدے اس کے علاوہ ہیں۔

روسی وزارت خآرجہ نے اپنے اعلامیے میں انڈیا پاکستان کو شملہ معاہدے اور لاہور اعلامیے کے تحت مسائل حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انڈیا کے امریکا اور روس سمیت کئی ملکوں سے قریبی فوجی تعلقات ہیں، ان سب جگہوں سے انڈیا کو یہی مشورہ مل رہا ہے کہ پنگا لینے سے گریز کیا جائے۔

انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنی حکومت کو سمجھانے کے لیے اور معاملے کو لٹکانے کے لیے وقت لے رہی ہے۔ مودی سرکار معاملات کو بوائلنگ پوائنٹ پر لے جا چکی ہے، جہاں سے واپس تو آیا جا سکتا ہے لیکن اس کی سیاسی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ کوئی کاسمیٹک سی فیس سیونگ کارروائی الٹا جگ ہنسائی کا باعث بن سکتی ہے۔

کپتان کے مداح جو بظاہر پاکستان کی حکومت سے ناراض اور جلے بھنے بیٹھے ہیں، وہ یہ کہتے بھی نہیں شرما رہے تھے کہ پہلے کپتان کو رہا کرو پھر ہم مودی کو سیدھے ہوں گے۔ کپتان کو انڈین میڈیا نے جس طرح ایک احمقانہ الزام کا نشانہ بنایا ہے، یہ اخلاق سے گری ہوئی حرکت تو ہے، اس کا ایک دوسرا اینگل بھی ہے۔

لگ یہ رہا ہے کہ انڈین میڈیا سے اب وار ہسٹریا سے دھیان ہٹایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے کسی ایسی بڑی خبر، افواہ یا ڈائیورژن کی تلاش ہو رہی ہے جو لوگوں کو کسی اور بتی کے پیچھے لگا دے، ہمارے خطے کی بدقسمتی ہے کہ ہم ردعمل کی نفسیات کا شکار ہیں، واقعات رونما ہوتے ہیں، وہ سب کچھ بہا لے جاتے ہیں۔

دنیا جب امکانات ڈھونڈ رہی ہے، اک سیٹ پیٹرن پر اپنے لیے نئی دنیا تخلیق کی جا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی ایجادات میں برتری کے لیے زور آزمائی ہو رہی ہے۔ ہمارا خطہ اتنا غیر مستحکم ہے کہ اک آدھ واقعہ ہوتا ہے، وہ واقعہ اتنی طاقت رکھتا ہے کہ آٹو پر دنیا کی 2 ارب آبادی کو آگ میں جھونک سکتا ہے، ہم حالات کے غلام ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

wenews امریکا بھارت پاک بھارت کشیدگی پاک فوج پاکستان دنیا روس سرجیکل سٹرائیک شہباز شریف نریندر مودی وزیراعظم پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا بھارت پاک بھارت کشیدگی پاک فوج پاکستان دنیا سرجیکل سٹرائیک شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز انڈین ایئر ایئر فورس رہی ہے

پڑھیں:

99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی

بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔

193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔

اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔

81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔

خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.

Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…

— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 2, 2026

اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار