WE News:
2026-07-24@09:22:34 GMT

امکانات کی دنیا میں ہم واقعات کے غلام ہیں

اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT

4 مئی کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انڈین ایئر چیف مارشل وی آر چوہدری سے 40 منٹ ملاقات کی، یہ ملاقات مختصر رہی، وی آر چوہدری نے پاکستان میں اہداف کے حوالے سے درست انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی پر اصرار کیا، انڈین ایئر فورس کو اس وقت ایک درجن اسکوارڈن کی کمی کا سامنا ہے۔ بظاہر مضبوط دکھتی انڈین ایئر فورس کے پاس فی جہاز ڈیڑھ (ایک اشاریہ پانچ) پائلٹ دستیاب ہیں، پاکستان ایئر فورس کو ایک جہاز کے لیے ڈھائی (دو اشاریہ پانچ) پائلٹ دستیاب ہیں۔

پاکستان ایئر فورس انڈین ایئر فورس سے زیادہ وقت تک فائٹر جیٹ کو فضا میں رکھ سکتی ہے، زیادہ جلدی متبادل پائلٹ کے ذریعے فائٹر جیٹ کو دوبارہ فضا میں لا سکتی ہے۔ 29 اپریل کو بھارت میں ایک ہائی لیول میٹنگ ہوئی تھی، اس میٹنگ میں نریندر مودی کے علاوہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان، انڈین آرمی، نیوی اور ایئر فورس چیف نے شرکت کی تھی۔

اس اجلاس میں انڈین مسلح افواج کو پہلگام حملے کا جواب دینے کے لیے وقت، ٹارگٹ اور نوعیت کے تعین کا اختیار دے دیا گیا تھا۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس سے پہلے کابینہ سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس 23 اپریل کو ہوا تھا جس میں سفارتی اقدامات، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی منظوری دی گئی تھی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دینیشن کے تریپاتھی، آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی، وزیردفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان سے الگ الگ ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ بظاہر یہ ساری ملاقاتیں اور انڈین بیانات سے کسی کارروائی کا امکان ظاہر ہوتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ انڈین سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ تناؤ بڑھانے اور سرجیکل اسٹرائیک سے گریز ہی کررہی ہے۔

انڈین آرمی، نیوی اور ایئر فورس پاکستان کو کئی طرح سے چیک کر چکے ہیں، ہر بار وہ کسی قسم کا سرپرائز دینے سے ناکام رہے ہیں، انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ اب اپنی حکومت کو لاجیسٹک مسائل، انٹیلی جنس فیلیئر، پاکستان کے موجودہ نامعلوم سائبر اور الیکٹرانک وار فیئر کی صلاحیت کا بتا کر کسی اسٹرائیک سے پہلے مناسب تیاری کے لیے وقت مانگ رہی ہے۔

انڈیا اس وقت کئی اقسام کے رنگ برنگ اسٹریٹجک اتحاد کا حصہ ہے، آئی ٹو یو ٹو، کواڈ، برکس، ایس سی او کا انڈیا براہِ راست ممبر ہے۔ آکیس یعنی آسٹریلیا، کینیڈا، امریکا اور فائیو آئی اتحاد جس میں امریکا، یو کے، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں سے بھی انڈیا قریبی تعاون کرتا ہے۔ روس کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدے اس کے علاوہ ہیں۔

روسی وزارت خآرجہ نے اپنے اعلامیے میں انڈیا پاکستان کو شملہ معاہدے اور لاہور اعلامیے کے تحت مسائل حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انڈیا کے امریکا اور روس سمیت کئی ملکوں سے قریبی فوجی تعلقات ہیں، ان سب جگہوں سے انڈیا کو یہی مشورہ مل رہا ہے کہ پنگا لینے سے گریز کیا جائے۔

انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنی حکومت کو سمجھانے کے لیے اور معاملے کو لٹکانے کے لیے وقت لے رہی ہے۔ مودی سرکار معاملات کو بوائلنگ پوائنٹ پر لے جا چکی ہے، جہاں سے واپس تو آیا جا سکتا ہے لیکن اس کی سیاسی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ کوئی کاسمیٹک سی فیس سیونگ کارروائی الٹا جگ ہنسائی کا باعث بن سکتی ہے۔

کپتان کے مداح جو بظاہر پاکستان کی حکومت سے ناراض اور جلے بھنے بیٹھے ہیں، وہ یہ کہتے بھی نہیں شرما رہے تھے کہ پہلے کپتان کو رہا کرو پھر ہم مودی کو سیدھے ہوں گے۔ کپتان کو انڈین میڈیا نے جس طرح ایک احمقانہ الزام کا نشانہ بنایا ہے، یہ اخلاق سے گری ہوئی حرکت تو ہے، اس کا ایک دوسرا اینگل بھی ہے۔

لگ یہ رہا ہے کہ انڈین میڈیا سے اب وار ہسٹریا سے دھیان ہٹایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے کسی ایسی بڑی خبر، افواہ یا ڈائیورژن کی تلاش ہو رہی ہے جو لوگوں کو کسی اور بتی کے پیچھے لگا دے، ہمارے خطے کی بدقسمتی ہے کہ ہم ردعمل کی نفسیات کا شکار ہیں، واقعات رونما ہوتے ہیں، وہ سب کچھ بہا لے جاتے ہیں۔

دنیا جب امکانات ڈھونڈ رہی ہے، اک سیٹ پیٹرن پر اپنے لیے نئی دنیا تخلیق کی جا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی ایجادات میں برتری کے لیے زور آزمائی ہو رہی ہے۔ ہمارا خطہ اتنا غیر مستحکم ہے کہ اک آدھ واقعہ ہوتا ہے، وہ واقعہ اتنی طاقت رکھتا ہے کہ آٹو پر دنیا کی 2 ارب آبادی کو آگ میں جھونک سکتا ہے، ہم حالات کے غلام ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

wenews امریکا بھارت پاک بھارت کشیدگی پاک فوج پاکستان دنیا روس سرجیکل سٹرائیک شہباز شریف نریندر مودی وزیراعظم پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا بھارت پاک بھارت کشیدگی پاک فوج پاکستان دنیا سرجیکل سٹرائیک شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز انڈین ایئر ایئر فورس رہی ہے

پڑھیں:

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا

پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔

ویسٹ انڈیز کی قیادت روسٹن چیز کریں گے جبکہ جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

اسکواڈ میں جوشوا بیشپ، تیج نارائن چندرپال، جوشوا ڈی سلوا، جسٹن گریوز، کیوم بوج، شے ہوپ، عامر جینگو، شیمار جوزف، برینڈن کنگ، کرک میک کینزی، گڈاکیش موتی، کیمو پال، کیمار روچ، جیڈن سیلز اور جومیل واریکن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 25 جولائی سے ہوگا۔

        View this post on Instagram                      

قومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان مسلسل سات بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔

اس سیریز میں پاکستان کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کر رہے ہیں جنہیں شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی