غیور قوم اپنے وطن کے دفاع کیلئے ہر قیمت چکانے کو تیار ہے، سید علی رضوی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صدر سید علی رضوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں پر بزدلانہ حملے دراصل ایک کھلی جنگ کا اعلان ہیں۔ یہ مذموم حرکتیں دشمن کی کمزوری اور خوف کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صدر سید علی رضوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں پر بزدلانہ حملے دراصل ایک کھلی جنگ کا اعلان ہیں۔ یہ مذموم حرکتیں دشمن کی کمزوری اور خوف کی عکاسی کرتی ہیں۔ مگر وہ یہ جان لے کہ پاکستان کی غیور، بہادر اور شہادت کو سعادت سمجھنے والی قوم اپنے وطن کے تحفظ کے لیے ہر قیمت چکانے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دشمن کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے باسی، وطن کے چپے چپے کے دفاع کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔