مقبوضہ کشمیر میں تین جنگی طیارے تباہ ہوئے .بھارتی حکام کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
دہلی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 07 مئی ۔2025 )بھارتی حکام نے بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تین جنگی طیارے تباہ ہوئے تاہم پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے انڈیا کے پانچ طیارے مار گرائے انڈین جریدے”دی ہندو“ نے ایک سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک نامعلوم طیارہ چھ اور سات مئی کی درمیانی شب پنجاب کے علاقے بھٹنڈہ کے گاﺅں اکلیان کلاں میں گر کر تباہ ہوا.
(جاری ہے)
انڈیا نے اب تک اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج نے انڈیا کے تین ڈرونز بھی مار گرائے سکیورٹی ذرائع کے مطابق جن علاقوں میں انڈین ڈرونز گرائے گئے، ان میں کوٹلی، برنالہ اور شکر گڑھ سیکٹر شامل ہیں. بعدازیں بھارتی جریدے نے طیارے تباہ ہونے کی خبر ویب سائٹ سے ہٹادی اور”ایکس“ پر پوسٹ کیا گیا خبر کا لنک بھی ڈیلیٹ کردیا ”دی ہندو“کی ویب سائٹ کے مرکزی صفحے پر میں بھارتی طیاروں کی تباہی کی خبر دیر تک دکھائی د یتی رہی تاہم کلک کرنے کے بعد تفصیلات سامنے نہیں آتیں اور بعد میں خبر مکمل غائب کردی گئی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔