’بندر کے ہاتھ ناریل‘: فرانسیسی اخبار نے بھارتی فضائیہ کی خامیاں، آپریشن سیندور کے سیاہ پہلو اجاگر کردیے
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
فرانس کے مؤقر اخبار لی مونڈے نے دفاعی ماہرین کی آرا کی روشنی میں بھارتی فضائیہ و ’آپریشن سیندور‘ کے سیاہ پہلو اجاگر کرتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے کہ بھارت بھی اب اپنی فوج کی نااہلی اور آپریشن مکے دوران کئی لڑاکا طیاروں کے نقصان کو تسلیم کرنا شروع کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے پاس انڈیا کے 5 جہاز مار گرانے کا ثبوت کیا ہے؟
اخبار لی مونڈے کی رپورٹ کے مطابق فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ تباہ ہونے والے طیاروں میں کم از کم ایک رافیل ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں ایک ماہر کا یہ جملی بھی شامل کیا گای کہ یہ فرانسیسی طیاروں کے لیے کسی جنگ کے دوران تباہ ہونے کا پہلا واقعہ ہے۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے حملے کے بدلے کے طور پر پاکستان میں 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ہندوستان کی طرف سے کیے گئے آپریشن سیندور کے بعد بھارت کی جانب سے طاقت کے مظاہرے کو فوجی ماہرین کی بڑی تعداد ایک ناقص کارکردگی گردان رہی ہے۔
پاکستان میں تقریباً ایک درجن مقامات پر بمباری کے باوجود بھارت اس آپریشن کے دوران کم از کم 3 لڑاکا طیاروں کے نقصان کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ بڑے نقصانات ہندوستانی فضائیہ کی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سمیت پاکستانی عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے بھارت کے 5 طیاروں کو مار گرائے جن میں 3 رافیل ، ایک مگ 29 اور ایک سکھوئی SU-30 شامل تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ہندوستان کی جانب سے صرف ایک گمنام سیکیورٹی ذریعے نے فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی سے بات کی کرتے ہوئے طیاروں کی قسم کی وضاحت کیے بغیر فوجی نقصانات کو تسلیم کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن سیندور بھارتی فضائیہ کی ناکامی بھارتی فوج کی ناکامی رافیل لی مونڈے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ کی ناکامی بھارتی فوج کی ناکامی رافیل لی مونڈے رپورٹ میں
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔