فضائی حدود کی بندش، حج پروازوں کے بارے معلومات کیلئے ہیلپ لائن قائم
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق 7 سے 9 مئی کے دوران 13 حج پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا، 3 روز کے دوران 4 حج پروازیں منسوخ، 9 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں، اسلام آباد اور لاہور سے سعودی ایئرلائن کی 2، 2 حج پروازیں منسوخ ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشن وقتاً فوقتاً بند ہونے کے باعث متعدد حج پروازیں منسوخ اور تعطل کا شکار ہونے کے باعث وزارت مذہبی امور نے حج پروازوں سے متعلق معلومات کیلئے ہیلپ لائن قائم کر دی۔ ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق 7 سے 9 مئی کے دوران 13 حج پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا، 3 روز کے دوران 4 حج پروازیں منسوخ، 9 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں، اسلام آباد اور لاہور سے سعودی ایئرلائن کی 2، 2 حج پروازیں منسوخ ہوئیں۔
لاہور سے 3، اسلام آباد، کوئٹہ سے 2، 2 جبکہ ملتان اور کراچی سے ایک ایک حج پرواز تاخیر کا شکار ہوئی، فلائٹ آپریشن کی عارضی بندش کے باعث 3 ہزار 80 عازمین حج کا شیڈول متاثرہوا، بیشتر پروازیں چند گھنٹوں کے التواء کے بعد عازمین حج کو لے کر روانہ ہوگئیں۔ ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق پروازوں کی منسوخی کے باعث رہ جانے والے 345 عازمین حج کو اسلام آباد سے پی آئی اے کی خصوصی پرواز سے آج روانہ کر دیا گیا، مزید 540 عازمین کو اسلام آباد اور لاہور سے خصوصی پروازوں کے ذریعے روانہ کیا جائے گا۔
وزارت مذہبی امور نے حج پروازوں کے شیڈول سے متعلق معلومات کی فوری اور مؤثر فراہمی کے لیے ہیلپ لائن ( 0519216980 ) قائم کر دی ہے، ہیلپ لائن پر کال کر کے عازمین حج اپنی پروازوں کے اوقات اور روانگی سے متعلق تازہ ترین معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق عازمین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ پروازوں سے متعلق معلومات کیلئے متعلقہ حاجی کیمپوں سے بھی رابطے میں رہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق حج پروازیں منسوخ حج پروازوں پروازوں کے اسلام آباد معلومات کی ہیلپ لائن کے دوران لاہور سے کے باعث کا شکار
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔