مالی سال 26-2025 کا بجٹ کب پیش کیا جائے گا؟ متوقع تاریخ سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2025-26 کا بجٹ 2 جون کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں 16 فیصد کمی کی گئی ہے اور اس کا حجم 921 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں لگ بھگ 200 جاری ترقیاتی منصوبوں کی بندش کا امکان ہے۔ قومی اقتصادی کونسل کی منظوری 26 یا 27 مئی کو متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے آئندہ سال کے ترقیاتی بجٹ کی جو ابتدائی حد (IBC) مقرر کی گئی ہے، وہ 921 ارب روپے ہے، جو منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے طلب کردہ 2.
میڈیا رپورٹس کے مطابق احسن اقبال نے کہا کہ وہ وزارت خزانہ کی جانب سے مقررہ IBC کو چیلنج کریں گے اور وزیرِاعظم سے اپیل کریں گے کہ غیر ملکی امداد یافتہ منصوبوں کے لیے کم از کم 1.6 کھرب روپے کی منظوری دی جائے تاکہ روپے میں فنڈز کی دستیابی ممکن ہو۔پریس کانفرنس میں وزیر نے ”ماہانہ ترقیاتی جائزہ رپورٹ – مئی 2025“ بھی جاری کی، جو وزارت خزانہ کی اقتصادی رپورٹ کے طرز پر تیار کی گئی ہے۔
آج اسلام آباد میں وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی بجٹ کی تیاری سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں نجی شعبے کے ممتاز کاروباری شخصیات اورماہرین سے بجٹ پر مشاورت کی گئی۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی وخوشحالی کیلئے حکومت اورنجی شعبے کوملکرکام کرنا ہے ، آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے، غریب اورمتوسط طبقے کی مالی مشکلات میں کمی کیلئےتمام وسائل بروئے کارلائے جائیں گے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے وفاقی بجٹ کی تیاری میں برآمدات پرمبنی ہائیدارترقی پر توجہ مرکوزبنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کے فروغ اور پیداوار میں اضافے کے لئے منصوبوں پر کام کیا جائے، نوجوانوں کوپیشہ ورانہ تربیت دے کرعصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہماری حکومت کی ترجیح ہے، وفاقی بجٹ تیار کرتے ہوئے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ مرکوزکی جائے۔انھوں نے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کا فروغ اگلے بجٹ میں حکومتی ترجیح ہوگی، پاورسیکٹرمیں حکومتی اصلاحات کے مثبت نتائج آ رہے ہیں، صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمتوں میں کمی حکومت کی صنعت وپیداوارکے فروغ کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کھرب روپے کی جانب کی گئی کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا