اسلام آباد/نئی دہلی : پاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص (آہنی دیوار) کے تحت جوابی کارروائیوں نے نہ صرف بھارت کی عسکری صلاحیتوں کو چیلنج کیا بلکہ اب بھارتی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، جنگی جنون میں مبتلا بھارتی حکومت کو اسٹاک مارکیٹ میں اب تک 83 بلین ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں شدید بےچینی کی فضا ہے، اور غیرملکی سرمایہ کاروں نے واضح طور پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ 

جمعرات کے روز مارکیٹ کے انڈیکسز میں تقریباً 0.

5 فیصد کی کمی ہوئی، جبکہ پورے ہفتے کے دوران مارکیٹ میں 1.3 فیصد کی تنزلی ریکارڈ کی گئی۔

رائٹرز کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ کے 13 بڑے شعبوں میں سے 12 شعبے شدید مندی کا شکار ہو چکے ہیں۔ 

ماہر اقتصادیات اویناش گورکشکا نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے مزید جوابی اقدامات کسی مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے بھارتی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی اشتعال انگیزی نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ بن رہی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی زوال کی طرف دھکیل رہی ہے۔


 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم