پاک بھارت ڈی جی ایم اوز 12 مئی کو دوبارہ بات کرینگے، وکرم مسری
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بھارتی سیکرٹری خارجہ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ساڑھے 3 بجے رابطہ ہوا، فون کال میں سیز فائر پر رضامندی ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور ہندوستان کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے کے بارے میں بھارت کے سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے آگاہ کیا۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ساڑھے 3 بجے رابطہ ہوا، فون کال میں سیز فائر پر رضامندی ہوئی۔ فریقین نے سیز فائر کرنے پر رضامندی ظاہر کی، زمینی، فضائی اور بحری سمیت ہر طرح کی فائرنگ اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق ہوا۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ کے مطابق ڈی جی ایم اوز 12 مئی کو دوبارہ بات کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیکرٹری خارجہ ڈی جی ایم اوز
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔