تعلیمی ادارےکل سےکھلیں گے یا نہیں؟وزیر تعلیم نےاہم بیان دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد نافذ سیز فائر کے تناظر میں پنجاب بھر کے تعلیمی ادارے کل (12 مئی) سے معمول کے مطابق کھول دیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے کل سے کھلیں گے اور نصابی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کی گئی جارحیت اور کشیدہ صورتحال کے باعث حکومتِ پنجاب نے 9 اور 10 مئی کو تمام اسکولز، کالجز اور جامعات بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
اب سیز فائر کے بعد حالات پر قابو پانے اور سیکیورٹی اداروں کی مکمل اطمینان دہ رپورٹ کے بعد حکومت نے تعلیمی سلسلہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم نے والدین، طلبہ اور اساتذہ کو یقین دہانی کرائی کہ تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا گیا ہے اور تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پاک بھارت حالیہ ٹکراؤ نے چینی جنگی جہازوں کی مانگ بڑھادی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔