Daily Ausaf:
2026-06-03@03:33:21 GMT

پاک بھارت فضائی جنگ میں حکمت عملی کا کردار

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

جو شہر اور قصبے جنگی ہوائی اڈوں کے قریب واقع ہوں وہ زیادہ جانی اور مالی نقصان کے خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔ جن لوگوں نے 1971 ء کی آخری بڑی جنگ کو آنکھوں سے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کس طرح دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں ہندوستانی جنگی جہاز ان اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس پرانی جنگی حکمت عملی کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ انڈین حملہ آور جہازوں کی پروازیں بہت نیچی ہوتی تھیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیچی پروازوں میں جنگی جہازوں کو نظر نہ آنے کی وجہ سے ڈیفنس سسٹم اور ریڈار وغیرہ کے زریعے جانچنا اور ڈیٹیکٹ کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔
اس کے باوجود پاکستانی ایئر فورس نے کمال مہارت کے ساتھ فرانس سے حاصل کیے گئے جدید ترین بھارتی جنگی جہازوں ’’رافیل‘‘ کو مار گرایا۔ بھارت کے اس نقصان کی تصدیق خود رافیل جنگی جہاز بنانے والی فرانسیسی کمپنی ’’ڈسالٹ ایوی ایشن‘‘ (Dassault Aviation) نے کی ہے جس کے شیئرز میں نمایاں کمی واقع ہو گئی ہے۔
پاکستان کی جانب سے حالیہ دفاعی کارروائی میں بھارتی فضائیہ کے 3رافیل طیاروں سمیت مجموعی طور پر 5جنگی طیارے تباہ کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، یورپی اسٹاک مارکیٹ میں ڈسالٹ کمپنی کے شیئرز منفی رجحان کا شکار ہو گئے ہیں، جسے تجزیہ کار بھارتی فضائیہ کی رافیل طیاروں میں ناکامی سے جوڑ رہے ہیں۔
رافیل طیارے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل جنگی طیارے تصور کئے جاتے ہیں، جو بھارتی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے ان طیاروں کو موثر فضائی دفاعی نظام کے تحت نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں صرف مہنگی ٹیکنالوجی فتح کی ضمانت نہیں ہے بلکہ پائلٹس کی بہادری اور مہارت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے حالیہ دفاعی کارروائی میں انتہائی مہارت کے ساتھ دشمن کے 5 طیارے مار گرائے، جن میں 3 رافیل شامل ہیں۔ اس واقعہ کے بعد انٹرنیشنل میڈیا سمیت بھارت کی دفاعی پالیسی پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ بھارت میں سوشل میڈیا اور بعض عسکری تجزیہ نگاروں نے بھی اس ناکامی پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
چہ جائیکہ کے اب تک پاکستان کو اس فضائی جنگ میں بھاری برتری حاصل ہے اور پاکستان 7مئی کے بھارتی حملوں کا منہ توڑ جواب بھی دے چکا ہے جس میں انڈین فوجی چوکیوں اور اسلحہ کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور ابھی تھوڑی دیر پہلے پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوجی چوکیوں پر شدید حملہ کیا ہے لیکن حیرت کا مقام ہے کہ پاکستان کی سٹریٹیجک وار پالیسی کے بارے میں کچھ حلقے سوالات اٹھا رہے ہیں کہ جب پاکستان کے بہاولپور، لاہور، کراچی، گوجرانوالہ اور راولپنڈی سمیت کم و بیش 7 شہروں پر بھارت نے میزائل حملے کیئے تو پاکستان کا ایئرڈیفنس ڈیٹیکٹو سسٹم کہاں اور کیوں سویا ہوا تھا اور ان میزائلوں کو ہوا ہی میں کیوں تباہ نہیں کیا گیا کہ پاکستان کو ان حملوں کی وجہ سے 25 شہادتوں کا نظرانہ پیش کرنا پڑا؟
اطلاعات کے مطابق بھارت نے پاکستان سول آبادی پر جو میزائل داغے یا ڈرونز بھیجے وہ اسرائیلی ساخت کے تھے جن کے بارے اطلاعات ہیں کہ وہ ’’ہاروپ‘‘ (Harop) ڈرونز ہیں جو جدید ترین لوئٹرنگ مونیشنز (Loitering Munitions) میں شمار ہوتے ہیں، جن کا بنیادی مقصد دور دراز کے علاقوں میں نگرانی کرنا اور انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنانا ہے۔
اس خاموش جنگی حکمت عملی اور اپنے پانچ لڑاکا طیاروں کے نقصان اور حالیہ فضائی جھڑپ میں شرمناک شکست کے بعد، بھارت اب پاکستانی فضائی حدود میں نہ تو جلد لڑاکا طیارے بھیجنے کا رسک لینے کے قابل رہا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی جارحیت کے لئے ان کا استعمال کرنے کی جلد بازی کر سکتا ہے۔ اس شرمناک صورتِ حال کے پیشِ نظر بھارت نے بعد میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس نگرانی کرنے والے ڈرونز کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ گزشتہ بھارتی حملے میں جو لاہور کے قریب والٹن کے علاقے میں کچھ ڈرونز فائر کئے گئے، انہیں پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے فوراً ہی شناخت کر لیا تھا۔
چونکہ یہ محض فضائی نگرانی کرنے والے آلات نہیں بلکہ ایک مکمل ذہین جنگی ہتھیار ہیں، جن کا مقصد دشمن کے دفاعی نظام کی مکمل خاکہ سازی (Mapping) کرنا ہوتا ہے۔ یہ ڈرون دشمن کی دفاعی ساخت کو سمجھنے، کمزوریاں تلاش کرنے، اور بعد ازاں حملے کی منصوبہ بندی میں انتہائی موثر کردار ادا کرتے ہیں جس وجہ سے پاکستان کی مسلح افواج نے ان ڈرونز کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں یا براہِ راست فضائی حملوں سے فوری طور پر تباہ نہیں کیا تھا۔ اگر ان ڈرونز کو فورا مار گرایا جائے، تو تباہ ہونے سے پہلے یہ بھارت کو اہم مقامات کے کوآرڈینیٹس اور الیکٹرانک سگنلز بھیج سکتے ہیں۔
یہ چند لمحے ہی دشمن کے تجزیہ کاروں کے لئے کافی ہوتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ریڈار سسٹمز، زمینی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، اور فضائی دفاعی ڈھانچے سے متعلق کارآمد انٹیلی جنس حاصل کر لیں۔ اسی لئے پاکستانی افواج نے ان ڈرونز کے خلاف نہایت حکمت عملی سے کام لیا، تاکہ دشمن کو کم سے کم معلومات حاصل ہو سکیں اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔
اس خطرے سے نمٹنے کے لیئے پاکستان نے ایک ہوشمند دفاعی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ پاکستان نے طویل فاصلے سے نشانہ بنانے کی بجائے، “سافٹ کل” (Soft Kill) نظام استعمال کیا۔
اس کے علاوہ، ان ڈرونز کو دانستہ طور پر قریبی حدود میں داخل ہونے دیا جاتا ہے تاکہ انہیں اینٹی ایئرکرافٹ گنز یا قریبی فاصلے کے دفاعی میزائلوں سے انتہائی درستگی کے ساتھ مار گرایا جا سکے۔ یہ اسٹریٹجک تاخیر اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ دشمن کو کوئی اہم معلومات منتقل نہ ہوں اور ڈرونز کو بھی مکمل طور پر غیر مثر بنا کر تباہ کیا جا سکے۔یہ حکمتِ عملی نہ صرف تکنیکی برتری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ دشمن کی جدید جنگی ٹیکنالوجی کے خلاف ایک مثر اور محفوظ دفاع بھی فراہم کرتی ہے۔ سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو جیسے ہی یہ ڈرونز پاکستانی سرحد کے قریب آتے ہیں، انہیں پاکستانی ریڈارز فورا شناخت کر لیتے ہیں، مگر فوری ردِعمل دینے کے بجائے، مسلح افواج انہیں سخت نگرانی کے تحت قریب آنے دیتی ہیں اور جیسے ہی یہ ایک خاص، قابو میں رکھے گئے فاصلے تک پہنچتے ہیں، انہیں اس مہارت سے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی حساس دفاعی معلومات کو دشمن تک منتقل نہ کر سکیں۔
یوں حالیہ فضائی جنگ میں انڈیا کی طرف سے روس، فرانس، اور اسرائیل کے بلند بانگ قسم کے وار ہارڈویئر کو ذلیل کروانے اور پاکستان کی طرف سے ان ٹیکنالوجیز کو خاک میں ملانے کے ’’ورلڈ ریکارڈ‘‘ قائم ہوئے ہیں جس کے بارے بی بی سی ویری فائی نے مختلف ماہرین، نمائندگان سے بات کرنے کے بعد طیاروں کی تباہی کے حوالے سے اپنی رپورٹ بھی جاری کی ہے۔ بی بی سی نے اگرچہ احتیاط سے کام لیا، مگر بین السطور بہت واضح ہے کہ پاکستانی دعوے درست اور وزنی ہیں جبکہ بھارتی الزام اور دعوے ماضی میں بھی غلط ثابت ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان کی پاکستان نے حکمت عملی ڈرونز کو کے ساتھ ہیں کہ

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان