گلگت بلتستان میں نون لیگ کی ریلیاں، پاک فوج کو خراج تحسین، خصوصی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حفیظ الرحمن، جاوید حسین، شمس میر و دیگر نے کہا کہ پاک فوج نے بھارت کو سبق سکھایا ہے، بھارتی جارحیت کے جواب نے پاکستان کے شاہینوں نے جس طرح کا کارنامہ سرانجام دیا اور دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: لیاقت علی انجم
بھارت کی جارحیت کیخلاف پاک فوج کے منہ توڑ جواب پر مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کی جانب سے یوم تشکر منایا گیا، ریلیاں نکالی گئیں اور پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ گلگت میں نون لیگ کے سیکرٹریٹ سے ریلی نکالی گئی جس میں کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ ریلی کی قیادت سابق وزیر اعلیٰ و نون لیگ کے صوبائی صدر حفیظ الرحمن کر رہے تھے، اس موقع پر پارٹی کے صوبائی قائدین بھی ہمراہ تھے۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حفیظ الرحمن، جاوید حسین، شمس میر و دیگر نے کہا کہ پاک فوج نے بھارت کو سبق سکھایا ہے، بھارتی جارحیت کے جواب نے پاکستان کے شاہینوں نے جس طرح کا کارنامہ سرانجام دیا اور دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاک فوج
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔