کشمیر، پانی کے مسئلہ پر پیش رفت ہونی چاہئے، جیتی جنگ میز پر نہ ہاری جائے: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بھارت جارحانہ کارروائیوں سے باز نہ آیا تو پاکستان کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں۔ قوم کشمیر پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرے گی۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پیش رفت ہونی چاہیے۔ سندھ طاس معاہدہ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اسلام آباد میں پرتاب سنگھ کی قیادت میں سکھ برادری کے وفد نے امیر جماعت سے ملاقات کی۔ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ قوم نے وطن کی حفاظت کے لیے تمام سیاسی اختلافات بھلا دئیے۔ حکومت اب ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور اس اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اور مناسب اقدامات اٹھائے۔ کسی عالمی رہنما کے محض بیان پر حکمرانوں کا پھولے نہ سمانا ناقابل فہم ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بھارت اپنے ذرائع ابلاغ کے زہریلے اور منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے دنیا میں بے نقاب و ناقابل اعتبار ہوگیا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ قوم عزت اور وقار کے ساتھ کھڑی ہو تو معیشت خود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ جیتی ہوئی جنگ کو میز پر نہیں ہارنا چاہیے۔ سکھ وفد نے پاکستان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور جماعت اسلامی کے موقف کو سراہا۔ اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے عوام مذہبی، فروعی، لسانی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کی حفاظت کے لیے اکٹھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔