اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 اگست2025ء)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارتی ظلم و جبر کے باوجود کشمیری عوام حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ثابت قدم ہیں، پاکستان ان کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، عالمی برادری کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

یومِ استحصًال کے موقع پر اپنے ویڈیو پیغام میں نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت گزشتہ 78 برسوں سے کشمیری عوام کو ان کے حقِ خودارادیت سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ 5 اگست 2019 کے بعد اس نے ظلم و جبر، آبادیاتی تبدیلی، ذرائع ابلاغ پر قدغن اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری جیسے اقدامات سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ان مظالم کے باوجود کشمیری عوام حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ثابت قدم ہیں۔

ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حقِ خودارادیت دیا جائے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اہل کشمیر کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا، جب تک انہیں ان کا حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہوجاتا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کشمیری عوام

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار