پونے میں فلسطین کے حق میں ریلی کے شرکاء پر ہندوتوا بلوائیوں کا حملہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
ذرائع کے مطابق ریلی میں شامل کارکن کاروے نگر میں پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے، جن پر فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کی تھی جب ہندوتوا گروپوں کے بلوائیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے شہر پونے میں مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مظاہرہ کرنے والے کارکنوں اور رضاکاروں پر ہندوتوا گروپوں نے حملہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ریلی میں شامل کارکن کاروے نگر میں پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے، جن پر فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کی تھی جب ہندوتوا گروپوں کے بلوائیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ بی جے پی لیڈر مہیش پاولے کی قیادت میں بڑی تعداد میں بلوائی موقع پر پہنچے اور انہوں نے ریلی کے شرکاء کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہندوتوا بلوائیوں نے خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنایا اور انہیں عصمت دری اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں جبکہ بعض کے کپڑے پھاڑ دیے گئے۔ شکایت درج کرانے کے باوجود پولیس نے ہندوتوا بلوائیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے، علاقے کی صورتحال مسلسل کشیدہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔