بھارتی حملوں میں گیارہ فوجیوں سمیت اکاون افراد ہلاک، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 13 مئی 2025ء) پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ بھارت کی ''مسلح افواج نے حال ہی میں جو بلا اشتعال اور قابل مذمت وحشیانہ حملے کیے، ان میں عام خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘‘
’’اس سنگین جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 'آپریشن بنیان مرصوص‘ کے ذریعے درست اور نمایاں جوابی حملے کیے۔
‘‘کشمیر: حالیہ تصادم پاکستانی فوج اور بھارتی قوم پرستوں کے لیے کتنا سودمند؟
آئی ایس پی آر نے کہا کہ چھ اور سات مئی کی درمیانی شب بھارت کے حملوں میں 40 شہریوں کی اموات ہوئیں، جن میں سات خواتین اور 15 بچے بھی شامل تھے جبکہ پاکستانی فوج کے چھ اور فضائیہ کے پانچ اہلکاروں سمیت 11 افراد کی اموات ہوئیں۔
(جاری ہے)
ان میں ایک اسکوارڈن لیڈر بھی شامل ہیں۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ 10 خواتین اور 27 بچوں سمیت 121 عام شہری جبکہ مسلح افواج کے 78 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
بھارتی اور پاکستانی فوجی قیادت کے مابین رابطے
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا، ''قوم جارحیت کے سامنے پرعزم ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کی خود مختاری یا علاقائی سالمیت کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کا ایک تیز، بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
‘‘ بھارت نے اپنے کسی طیارے کے تباہ ہونے کی تصدیق نہیں کیجوہری ہتھیاروں سے لیس یہ دونوں پڑوسی چار دنوں تک ایک دوسرے پر حملوں میں مصروف رہے جس نے ایک مکمل اور بھرپور جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔
کل پیر 12 مئی کو پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ فوجی حکام کے مابین ہاٹ لائن کے ذریعے پہلے دور کی بات چیت ہوئی اور پانچ روزہ جنگ کے بعد امریکہ کی ثالثی میں ہفتہ کو ہونے والی جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
جوہری ہتھیاروں کی دھمکی نہیں چلے گی، مودی
جنگ بندی کا اعلان پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا اور بعد میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس کی تصدیق کر دی تھی۔
پاکستانی فوج نے بھارت کے پانچ جنگی طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم بھارت نے اپنے کسی طیارے کے پاکستان کی طرف سے مار گرائے جانے کی تصدیق نہیں کی۔
ادارت: مقبول ملک
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستانی فوج
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔