بیجنگ : چینی صدر  شی جن پھنگ نے چین – لاطینی امریکی اور کیریبین ریاستوں کی برادری کے فورم کے  چوتھے  وزارتی اجلاس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور اس سے  اہم خطاب کیا۔شی جن پھنگ نے اعلان کیا کہ چین لاطینی امریکہ  کے ساتھ  پانچ بڑے منصوبوں کا آغاز کرےگا تاکہ مشترکہ طور پر چین  لاطینی امریکہ ہم نصیب معاشرے کی  تعمیر کی جائے۔اپنے خطاب میں  شی جن پھںگ نے کہا کہ چین اور لاطینی امریکی اور کیریبین ممالک  گلوبل ساؤتھ کے اہم اراکین ہیں۔ آزادی ہماری شاندار روایت ہے، ترقی اور احیاء ہمارے فطری حقوق ہیں اور  عدل و  انصاف ہماری  مشترکہ  جستجو ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین لاطینی امریکی اور کیریبین ممالک کے ساتھ مل کرپانچ بڑے منصوبوں کا آغاز  کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ مشترکہ طورپر  ترقی و احیاء کے حصول اور  چین-لاطینی امریکہ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لئے کوشش کی جائے۔پہلا  منصوبہ یکجہتی کا منصوبہ ہے جس میں  اگلے تین سالوں میں، چین ہر سال سی ای ایل اے سی کے رکن ممالک سے سیاسی جماعتوں کے300 عہدیداروں کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت دے گا.

دوسرا ترقیاتی منصوبہ ہے۔   اس منصوبے میں چین لاطینی امریکہ سے مزید اعلی معیار کی مصنوعات درآمد کرے گا اور چینی کمپنیوں کو لاطینی امریکہ میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کی ترغیب دے گا۔ تیسرا  منصوبہ تہذیبی  ہے جس میں  چین-لاطینی امریکہ تہذیبی  مکالمے کی  کانفرنس کا انعقاد کیا جائےگا۔ چوتھا منصوبہ   امن کا منصوبہ ہے جس میں تمام فریق  انسداد آفات کے اتنظامات، سائبر سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی، انسداد بدعنوانی، انسداد منشیات اور سرحدپار منظم جرائم پر ضرب لگانے میں تعاون کو مضبوط بنائیں گے۔ پانچواں  منصوبہ عوامی    رابطوں کا  منصوبہ ہے جس میں  اگلے تین سالوں میں چین 3500 سرکاری اسکالرشپس، چین میں  10 ہزار   تربیتی مواقع، بین الاقوامی چینی اساتذہ کے لئے 500 اسکالرشپس، تخفیف غربت میں  تکنیکی صلاحیتوں کے لئے 300 تربیتی مواقع، ” چائنا برج ” پراجیکٹ کے تحت چین کا دورہ کرنے کے لئے 1000  گروہوں کو دعوت اور  “سمال اینڈ  اسمارٹ” ذریعہ معاش کے300  پروگرامز  کا آٖغاز کیا جائے گا  ۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ  چین پہلے مرحلے میں پانچ لاطینی امریکی اور کیریبین ممالک کے لئے ویزا فری پالیسی نافذ کرے گا، اور مناسب وقت پر اس پالیسی کے دائرے کو   وسعت دے گا۔ سی ای ایل اے سی کے چیئرمین ملک  کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو، برازیل کے صدرلولا ڈی سلوا، چلی کے صدر گیبریل بوریک اور نیو ڈیولپمنٹ بینک کی صدر اور برازیل کی سابق صدر دلما روسیف نے  بھی  افتتاحی تقریب میں  تقاریر کیں۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: لاطینی امریکی اور کیریبین ممالک چین لاطینی امریکہ منصوبہ ہے ہے جس میں کے لئے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران