اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت 3 سے 5 مرلہ کے کم لاگت گھروں کے لیے کمرشل بینکوں کے قرضوں پر شرح سود میں سبسڈی فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ذرائع کے مطابق، متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چھوٹے گھروں کی درست لاگت کا تعین کریں تاکہ کمرشل بینک آنے والے سالوں میں فنڈنگ کے لیے بجٹ مختص کر سکیں۔پیر کو وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت کم لاگت رہائشی اسکیموں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں پاکستان میں طویل المدتی رہائشی فنانسنگ کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا گیا اور قابل عمل پالیسی ماڈلز پر غور کیا گیا۔اجلاس میں سیکریٹری منصوبہ بندی اویس منصور سمرا، اسٹیٹ بینک کے گورنر، پی آئی ڈی ای کے وائس چانسلر، نجی بینکوں کے سی ای اوز، پی ایم آر سی اور نیشنل بینک آف پاکستان کے نمائندے شریک ہوئے۔شرکاء نے سنگاپور، جنوبی افریقہ، ترکی، بنگلہ دیش، برازیل اور بھارت سمیت دیگر ممالک کے رہائشی قرضوں کے کامیاب ماڈلز کا جائزہ لیا۔ گفتگو کا محور پاکستان کے سماجی و اقتصادی پس منظر کے مطابق ایک قابل عمل اور پائیدار ہاؤسنگ فنانس فریم ورک کی تشکیل تھا۔احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ طویل المدتی ہاؤسنگ فنانس کی عدم دستیابی ملک میں سستے گھروں کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2017-18 میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی تھی، جو بعد ازاں سیاسی عدم استحکام کی نذر ہو گئی۔ “جب پالیسی میں تسلسل نہیں ہوتا تو اس کی قیمت عوام کو چکانا پڑتی ہے،” انہوں نے کہا۔وفاقی وزیر نے نجی شعبے میں آٹو لیزنگ ماڈل کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اسی طرز کا ماڈل رہائش کے لیے کیوں نہیں اپنایا جا سکتا؟ “لاکھوں لوگ پوری زندگی کرائے کے گھروں میں گزار دیتے ہیں۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے گھر کا مالک بننا کوئی خواب نہیں ہونا چاہیے، اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ پنجاب حکومت بھی اپنی ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے جا رہی ہے۔ قانونی اور ضابطہ جاتی پہلوؤں کو ہموار کرنے کے لیے وزارت منصوبہ بندی وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے رابطہ کرے گی۔وزیر منصوبہ بندی نے نجی بینکوں پر زور دیا کہ وہ بلا خوف مارکیٹ بیسڈ ہاؤسنگ فنانس ماڈل اپنائیں، اور حکومت کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ہاو سنگ کے لیے

پڑھیں:

پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی

وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • سینماز کی جلد بندش پر تشویش، فہد مصطفیٰ نے پنجاب حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا
  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • بڑھتا ٹیکسٹائل فضلہ: یو اے ای میں استعمال شدہ کپڑوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ