ڈونلڈ ٹرمپ محمد بن سلمان کی درخواست پر شام پر عائد تمام پابندیاں ہٹانے پر رضامند
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے کہنے پر شام پر سے تمام پابندیاں ہٹانے ہٹانے کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی صدر نے یہ اعلان مشرقی وسطیٰ کے اپنے دورے کے دوران کیا جس کے پہلے مرحلے میں وہ سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔
اس اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے شامی وزیر خارجہ اسد الشائبانی نے ملک کے لیے ‘رخ موڑنے والا’ مرحلہ قرار دے دیا اور انہیں ہٹانے کے لیے سعودی کوششوں کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب، کونسے اہم امریکی سرمایہ کار سعودی عرب پہنچ رہے ہیں؟
یہ پابندیاں امریکا نے شام پر بشار الاسد کے دور میں عائد کی تھیں تاہم گزشتہ سال دسمبر میں بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے امریکا اور شام کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں نے اپنا کردار ادا کردیا ہے اور اب شام کے آگے بڑھنے کا وقت آچکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے ہم کئی سالوں کی جنگ کے بعد استحکام پر مبنی مستقبل، خود کفالت اور تعمیر کی طرف بڑھ رہے ہیں، امریکی صدر کا یہ اعلان ایک اہم مرحلہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: دورہ مشرق وسطیٰ کا آغاز، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب پہنچ گئے
اس کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں امریکی صدر کی شامی صدر احمد الشرع سے بھی ملاقات ہوگی جس کے لیے موخر الذکر ریاض پہنچ رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی پابندیاں سعودی عرب شام مشرقی وسطیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی پابندیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔