امریکہ میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) سفیر رضوان سعید شیخ نے پیر کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کے وفد کا سفارت خانہ پاکستان میں استقبال کیا۔ سینئر سویلین اور فوجی افسران پر مشتمل وفد پاکستان کے اعلیٰ تربیتی ادارے سے قومی سلامتی اور وار کورس کو مکمل کر رہے ہیں۔ امریکہ کے نیئر ایسٹ ساؤتھ ایشیا سینٹر فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے سینئر افسران بھی وفد کے ہمراہ تھے۔
سفیر پاکستان نے کورس کے شرکاء کو کامیابی سے اہم کورس کی تکمیل پر مبارکباد پیش کی۔ یہ کورس اعلیٰ سول اور فوجی افسران کی تربیت کےلئے مرتب کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد سینئر افسران کو اعلیٰ ذمہ داریوں کے لئے تیار کرنا ہوتا ہے۔
وفد سے بات چیت کرتے ہوئے سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان گہرے تعلقات کو اجاگر کیا ۔ ان تعلقات کا آغاز امریکی صدر ٹرومین کی طرف سے 15 اگست 1947 کو بانی پاکستان کو لکھے گئے خط سے ہوا تھا جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔ سفیر پاکستان نے پاکستان کے جغرافیائی اور تذویراتی محل وقوع کے باعث اہمیت اور دنیا کی پانچویں سب سے بڑی آبادی کے طور پر ملک کی حیثیت سے کو اجاگر کیا ۔
امریکہ اور پاکستان کی شراکت داری پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے گذشتہ سات دہائیوں میں پاکستان امریکہ تعلقات کی مضبوطی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تعلقات کی مختلف جہتوں جن میں دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں فرنٹ لائن ریاست کے طور پر پاکستان کے کردار کا حوالہ دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے 2022 کے سیلابوں کو بھی ذکر کیا جس کی وجہ سے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا تھا ۔
اقتصادی تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور اہم معدنیات اور زراعت میں تعاون کے شعبہ جات میں ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کی صلاحیت موجود ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے بروقت امریکی مداخلت کو سراہا جس کے نتیجے میں کشیدگی میں کمی آئی تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ جنگ بندی نازک ہے اور جموں و کشمیر کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے، امریکہ سمیت، بین الاقوامی برادری کی مسلسل مشغولیت پر زور دیا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یکطرفہ اقدامات کے خلاف انتباہ دیا جس سے علاقائی استحکام اور غذائی تحفظ کو خطرہ ہو۔
سفیر پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تذویراتی پارٹنرشپ کی وکالت کی جس کی بنیاد باہمی مفادات اور علاقائی استحکام میں پاکستان کے کردار ہے۔ انہوں نے پاکستان کی نوجوان آبادی اور انکی تکنیکی صلاحیت کو مستقبل کے تعاون کے کلیدی اثاثوں کے طور پر اجاگر کیا۔
انٹرایکٹیو سیشن کے دوران شرکاء نے علاقائی اور عالمی چیلنجز کے حوالے سے سفیر پاکستان سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہوئے سفیر پاکستان سفیر پاکستان نے رضوان سعید شیخ پاکستان کے کرتے ہوئے اجاگر کیا انہوں نے
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔