بھارت اور پاکستان میں اب ایک نئی سفارتی جنگ
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 مئی 2025ء) منگل کو بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک سفارت کار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر انہیں 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔ اس کے چند گھنٹے بعد ہی پاکستان نے بھی اسی طرح کی کارروائی کرتے ہوئے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کے ایک رکن کو ناپسندیدہ قرار دیا اور انہیں 24 گھنٹوں کے اندر وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا۔
کشمیر: پاکستان کے خلاف بھارتی اقدامات اور اسلام آباد کی جوابی کارروائی کی دھمکی
یہ اقدام حالیہ فوجی تصادم اور امریکہ کے دباؤ میں دونوں ملکوں کے درمیان فائربندی کے بعد سامنے آیا ہے۔ جس کے بعد دونوں دیرینہ حریفوں کے درمیان ایک نیا سفارتی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔
(جاری ہے)
پاکستان کا بیانپاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق، حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک عملے کے رکن کو ناپسندیدہ شخص قرار دے دیا ہے، "مذکورہ سفارتکار ایسی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا جو سفارتی کردار، قوانین اور بین الاقوامی سفارتی آداب کے خلاف ہیں۔
"بیان میں کہا گیا ہےکہ بھارتی ناظم الامور کو آج وزارت خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں اس فیصلے سے متعلق باضابطہ احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔
بھارتی خطرے کا مقابلہ ’سخت جوابی اقدامات‘ سے کیا جائے گا، پاکستان
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار کو 24 گھنٹوں کے اندر پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
بھارتی حکومت کا فیصلہاس سے قبل، بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات ایک پاکستانی اہلکار کو شخصی طور پر ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ان پر "سرکاری حیثیت کے برخلاف سرگرمیوں" میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق "متعلقہ پاکستانی اہلکار ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے جو اس کی سفارتی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔
" بیان میں الزامات کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔پہلگام حملے کے بعد بھارتی اور پاکستانی رہنماؤں کی لفظی جنگ جاری
منگل کو بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی اہلکار کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور انہیں 24 گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جنگ بندی جاریدونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے پہلے دور کے مذاکرات کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
بات چیت کے دوران دونوں اطراف کے ڈی جی ایم اوز نے ایک بھی گولی چلانے یا ایک دوسرے کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی شروع نہ کرنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان اور بھارت کی فوجی قوت ایک نظر میں
بھارت اور پاکستان کے درمیان 10 مئی کو ایک مکمل اور فوری فائر بندی کا اعلان کئی دنوں تک جاری رہنے والے فوجی جھڑپوں کے بعد کیا گیا جس نے دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔
خیال رہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پہلگام میں 22 اپریل کو ایک حملے کے بعد، جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے، دونوں ملکوں میں کشیدگی پھیل گئی۔
بھارت نے اس حملے کا الزم پاکستان سے سرگرم دہشت گرد عناصر پر لگایا لیکن اسلام آباد نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔ت
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہائی کمیشن کے اسلام آباد میں بھارت کے ایک گیا ہے کے بعد
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔