کراچی: گلشن اقبال میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران شہری قتل
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
کراچی:
گلشنِ اقبال ڈھاکہ سوئٹس کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا۔
واقعہ گلشن اقبال تھانے کی حدود میں نیپا چورنگی کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 24 سالہ کامران عباس ولد غلام عباس کے نام سے ہوئی جو ایک نجی اسکول میں ملازم تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق کامران ایک محنتی اور شریف نوجوان تھا جو روزی روٹی کی تلاش میں نکلا تھا مگر موت نے راستے میں ہی جکڑ لیا۔
عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کامران موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کے بعد پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔
ترجمان ایسٹ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت کی جا سکے، رواں سال کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 41 ہوچکی پے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔