دارالعلم امام خوئی نجف اشرف میں خطاب کے دوران حقیقی مجتہدین کی تربیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آیت اللہ جوادی آملی نے فرمایا کہ تقلید معاشرے کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ جو شخص اہل ہے، اسے مجتہد بننا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ مفسر قرآن، حوزہ علمیہ قم کے استاد بزرگوار اور مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے نجف اشرف میں دارالعلم امام خوئی میں موجود سینکڑوں اساتذہ، طلباء اور حوزہ علمیہ کے فضلاء کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا۔ انہوں نجف اشرف کے قدیم اور پُرشکوہ حوزہ علمیہ کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حوزہ "أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى" کی روشن مثال ہے، شیخ طوسی سے لے کر آیت اللہ خوئی تک، اس حوزہ نے ایسے مردانِ الٰہی تربیت کیے ہیں جو "فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا" کی زندہ تفسیر ہیں، یہ تمام برکات ولی مطلق حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت کا ثمرہ ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب کے مرکزی نکات کو "واجبات ایجابی" اور "واجبات سلبی" کے دو حصوں میں تقسیم فرمایا۔

پہلا حصہ: علم حاصل کرنا ایک عمومی فریضہ۔
آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے "طلب العلم فریضۃ" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان، زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کو انسان کے تصرف میں دے دیا ہے۔  یعنی کوئی یہ کہنے کا حق نہیں رکھتا کہ میں نہیں کر سکتا۔ نظام کائنات اللہ کی عظیم لائبریری ہے اور انسان کو سیکھنے اور تسخیر کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے حوزات علمیہ کو قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی سنت کی گہری اور دقیق تفہیم کا پابند قرار دیا۔ دوسری جانب انہوں نے یونیورسٹیوں کو فطرت، آسمان، زمین اور مادی دنیا کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی ذمہ داری قرار دیا تاکہ اسلامی معاشرہ مشرق و مغرب کی محتاجی سے آزاد ہو سکے۔

دوسرا حصہ: جہالت اور جاہلیت سے نجات۔
انہوں نے مزید تاکید فرمائی کہ صرف علم کافی نہیں ہے، بلکہ معاشرے کو عالم ہونے کے ساتھ ساتھ عاقل بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمارا فریضہ صرف علمی جہل اور عملی جہالت کو دور کرنا نہیں ہے، بلکہ ہمیں ساختی جاہلیت اور نظامِ جاہلیت کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔ امام صرف دین کے معلم نہیں ہیں، بلکہ وہ تمدنی جاہلیت سے معاشرے کی پاکیزگی کے ذمہ دار بھی ہیں۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ حدیث "من مات ولم يعرف إمام زمانه مات ميتة جاهلية" سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر معاشرہ امامت اور نظامِ ولایت کو پہچاننے اور قبول کرنے سے قاصر رہے تو وہ جاہلیت ہی میں مبتلا رہے گا۔ حضرت آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے جنگِ صفین اور فتنۂ حکمیت کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مولا امیرالمومنین علیہ السلام نے ان فتنوں کے بعد بارہا تاکید فرمائی کہ معاشرہ جاہلیت کی طرف لوٹ گیا ہے، نہ کہ فردی جہالت کی وجہ سے، بلکہ ایک جاہلی نظام میں مبتلا ہونیکی وجہ سے۔

تیسرا حصہ: طلباء کو اجتہاد کی دعوت، نہ محض تقلید۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے اہم حصے میں حقیقی مجتہدین کی تربیت کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ تقلید معاشرے کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ جو شخص اہل ہے، اسے مجتہد بننا چاہیے، مسائل کو مصادر سے اخذ کرنا چاہیے، فروع کو اصولوں سے مربوط کرنا چاہیے، اور زمانے کی ضروریات کا جواب دینے کے قابل ہونا چاہیے۔ 

حضرت آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے نجات دینے والی تین چیزیں "علم، عقل اور تزکیہ" کو فردی اور اجتماعی ترقی کا راستہ قرار دیا، جو کہ اسلامی مدارس اور عالمِ اسلام کی یونیورسٹیوں دونوں کے لیے یکساں اہم ہیں۔ آخر میں انہوں نے تمام امتِ مسلمہ کے لیے دعا فرمائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فرمایا کہ انہوں نے نہیں ہے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا